اہم نکات
- نگران وزیراعظم کی کابینہ کی تشکیل کیلئے مشاورت میں تیزی
- بی این پی مینگل کو انوار الحق کاکڑ کی بطور نگران وزیراعظم تعیناتی پر اعتراض
- نواز شریف نے ستمبر میں وطن واپسی کی تیاریاں شروع کردیں
- تحریک انصاف کی کور کمیٹی کی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کی مذمت
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نگران کابینہ کیلئے مشاورتی عمل تیز کردیا ہے، ذرائع کے مطابق نگران کابینہ کیلئے تجربہ کار شخصیات کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ نگران وزیراعظم تمام شخصیات کے پروفائل کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔
نگران کابینہ کیلئے جلیل عباس جیلانی، شعیب سڈل، احسن بھون، سرفرازبگٹی ، محمد علی درانی، خرم حمید روکھڑی، قاری صداقت علی، ذوالفقارچیمہ، فیصل واڈا اور ستارہ ایاز کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے، نگران وزیراعظم نے قریبی رفقاء سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کابینہ کو مختصر رکھنا چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے حوالے سے حکومت نے اپنے اتحادیوں سے مشاورت نہیں کی نگران کابینہ میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جو غیرجانبدار ہوں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اتفاق کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیراعلی سندھ نامزد کردیا گیا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر آج گورنر کامران ٹیسوری سے اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور اپوزیشن سندھ رعنا انصار کے درمیان نگران وزیراعلی کیلئے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کے نام پر اتفاق ہوا تھا۔
ادھر نگران وزیر اعلی بلوچستان کی نامزدگی کے حوالے سے وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اور اپوزیشن لیڈر سکندر خان کے درمیان کسی بھی نام پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد نگران وزیراعلی کی نامزدگی کا مامعلہ پارلیمانی پارٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کی اتحادی جماعت بی این پی مینگل نے انوار الحق کاکڑ کی بطور نگران وزیراعظم تقرری پر اعتراض اٹھایا ہے۔ سردار اختر مینگل نے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو خط میں لکھا ہے کہ نگران وزیراعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازےبندکر دیےگئے۔

اختر مینگل نے لکھا ہے کہ موجودہ حالات کا حل سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے تلاش کیا جا رہا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اختر مینگل کا گلہ اسٹبلشمنٹ سے ہے۔ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے کو لیکر اختر مینگل اور ان کی جماعت بہت حساس ہیں۔ جبکہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ماضی میں مسنگ پرسنز کو کوئی مسئلہ ہی نہیں قرار دیتے رہے۔
نگران سیٹ اپ آتے ہی سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے وطن واپسی کی تیاری شروع کردی ہے۔ میاں نواز شریف نے اس حوالے سے حکمت عملی کیلئے مسلم لیگ کی سینئر قیادت آئندہ چند روز میں لندن روانہ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق کچھ رہنما میاں نواز شریف کو ستمبر میں وطن واپسی کا مشورہ دے رہے ہیں اور کچھ اکتوبر میں کورٹ کیس ختم ہونے کے بعد وطن واپس آنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت ہوا، کور کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت عمران خان کو جیل میں تمام وہ سہولیات دے جس کا عدالت نے حکم دے رکھا ہے۔
اجلاس میں عمران ؐخان کو قید تنہائی سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کے ساتھ بیرون ملک ہونے والے سلوک کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ ادھر عمران خان کے ساتھ ان کی اہلیہ بشری بی بی کی جیل میں ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں عمران خان نے جیل میں ہونیوالی ناانصافی کے بارے میں اپنی اہلیہ کو آگاہ کیا۔ دوسری جانب اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 9 مئی کے 6 مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج کردی ہے۔
(رپورٹ اصغرحیات)




