Key Points
- حکومت اور اپوزیشن میں گرما گرمی
- اپوزیشن لیڈر پر فرد جرم عائد
- وزیراعظم کا دورہ آذربحیجان
پاکستان میں سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم ہوگیا۔اسلام آباد میں کانفرنس کے انعقاد کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک بار پھر تلخی میں اضافہ ہوا ہے۔ اپوزیشن گرینڈ الائنس کی جانب سے معیشت اور آئین پر کانفرنس کے انعقاد پر حکومت حرکت میں آگئی۔
اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے اس مارکی کو سیل کردیا گیا ہے جہاں پر اپوزیشن اتحاد نے کانفرنس کا انعقاد کرنا تھا۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے دورہ سندھ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے اسلام آباد میں کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔ اپوزیشن گرینڈ الائنس کے رہنماوں محمود اچکزئی، شاہد خاقان عباسی، سلمان اکرم راجہ اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی اقدام کی مذمت کی ہے۔ تین روزہ دورے کے دوران اپوزیشن اتحاد کے رہنماوں نے سندھ کی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔
اپوزیشن رہنماوں نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی، عوام تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو اور پیر صبغت اللہ شاہ راشدی سمیت جی ڈی اے کے رہنماوں سے ملاقات کی تھی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماوں نے ان جماعتوں کو باقاعدہ اپوزیشن گرینڈ الائنس کا حصہ بننے کی دعوت دی اس دورے کے دوران تحریک تحفظ آئین پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے حکومت مخالف اتحاد کے سلسلے میں مشترکہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ میں چار نئے وزرا شامل کیے جائیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ کو ایک ایک وزارت دی جائے گی۔ متحدہ قومی مومنٹ کے مصطفی کمال اور بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی کو وفاقی وزیر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن سے حنیف عباسی اور طارق فضل چوہدری کو وفاقی وزیر بنایا جائے گا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد نے صدر مملکت آصف علی زرداری کیساتھ ملاقات کے دوران حکومت کیخلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے صدر مملکت سے کہا کہ انتظامی معملات میں پیپلزپارٹی کے اراکین کو نظرانداز کیا جاتا ہے ۔ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں بھی پیپلزپارٹی کے اراکین کو ترجیع نہیں دی جاتی۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ تحریری معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا ہماری مجبوری ہے۔
سرگودھا کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ۹ مئی کو جوڈیشل کمپلیکس میانوالی پر حملے کے مقدمے میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور دیگر پی ٹی آئی رہنماوں پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ منگل کے روز سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9مئی کو میانوالی میں جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ انسداد دہشتگردی کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمہ کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر ، رکن قومی اسمبلی بلال اعجاز اور مقدمہ میں نامزد دیگر متعدد کارکنان عدالت پیش ہوئے۔عدالت میں عمر ایوب ، ملک احمد خان بھچر ، بلال اعجاز اور مقدمات میں نامزد تحریک انصاف کے متعدد کارکنان پر فرد جرم عائد کردی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔ ملزمان نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ان پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عدالت نے آئندہ پیشی پر مقدمے کے گواہان کو طلب کرنے کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکرٹری داخلہ اور جیل سپرٹینڈٹ کیخلاف توہین عدالت کی دو مختلف درخواستوں پر ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے 28 جنوری 2025 کا حکمنامہ بھی درخواست کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست کی سماعت کی۔عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ موقف اپنایا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ صرف عدالت کرسکتی ہے۔ رجسٹرار آفس اس کا فیصلہ کرنےکا مجاز نہیں۔
وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر دائر کی جارہی ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی ان کے دوستوں کیساتھ ملاقات نہیں کروائی جارہی ہے۔ ادھر اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ ملاقات میں عمران خان کی صحت سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔ اڈیالہ جیل میں بشری بی بی سے بیٹی مہر النساء احمد نے بھی ملاقات کی۔ اس سے قبل عمران خان سے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان ، بہنوئی سہیل خان ، پارٹی سیکرٹری جنرل سلیمان اکرم راجہ، وکیل فیصل چوہدری اور دیگر سے بھی ملاقات کروائی گئی۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں۔ عمران خان کرکٹ پاکستانی ٹیم کے میچ کی وجہ سے شدید غصے میں تھے انھوں نے کہا کہ محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی لگا دیا۔ اس سے پہلے انہیں جس شعبے میں لگایا گیا وہ اسے تباہ کرچکے ہیں۔ وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے محسن نقوی کا استعفی مانگا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ شیر افضل مروت کو انہی کے مطابق ڈیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین نے ان کی صحت کے حوالے سے ایکس پر لگائی گئی پوسٹ سے انکار کیا ہے۔ ۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف آذر بائیجان کا دورہ مکمل کرکے ازبکستان کے دار الحکومت تاشقند پہنچ گئے۔اُزبک وزیرِ اعظم عبداللہ عاریپوف نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا ، وزیر اعظم نے تاشقند میں یادگار آزادی کا دورہ کیا اورپھول رکھے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف دورے کے دوران اعلی ازبک قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستان ۔اُزبکستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔ پاکستان اور ازبکستان کے مابین زراعت، علاقائی روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔اس سے قبل وزیراعظم نے آذربائیجان کا دو روزہ دورہ کیا۔پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تیل و گیس،زراعت، ماحول کے تحفظ، سیاحت ، تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
بارش نے پاکستانیوں کا چیمپئن ٹرافی کا مزہ کرکرا کردیا۔ راولپنڈی میں وقفے وقفے سے جاری رہنے والی بارش کے باعث آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کا اہم میچ منسوخ کردیا گیا۔بارش کی وجہ سے ٹاس بھی نہ ہوسکا۔اورشائقین کرکٹ مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے۔آسٹریلیااور جنوبی کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا۔ایونٹ میں آسٹریلیا اپنا اگلا میچ 28 فروری کو افغانستان کے خلاف لاہور میں کھیلے گا۔۔اسی طرح جنوبی افریقہ کی ٹیم یکم مارچ کو کراچی میں انگلینڈ کے مدمقابل ہوگی۔گروپ بی میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا دونوں کے تین تین پوائنٹس ہیں۔لیکن بہتر رن ریٹ کی وجہ سے پروٹیز پہلے اور کینگروز کا نمبر دوسرا ہے۔
(رپورٹ: اصغرحیات)
______________
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
- ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
- اردو پرگرام سننے کے اور طریقے
- “SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے ایپیل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
- پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:Spotify PodcastApple Podcasts






