پاکستان میں عام انتخابات سے ایک ہفتہ قبل تحریک انصاف کے رہنماوں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ منگل کے روز اڈیالہ جیل میں خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذولقرنین نے سماعت کے بعد زبانی مختصر فیصلہ سنایا۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان اور شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی ٹیم اورسٹیٹ کونسل کےوکلاءعدالت میں پیش ہوئے۔ عمران خان کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی فیملی بھی عدالت میں موجود تھی۔
سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعظم عمران خان نے 342 کے تحت اپنابیان عدالت میں ریکارڈ کروایا۔عدالت کے اسفتسار کرنے پر عمران خان نے بتایا کہ انہیں نہیں معلوم سائفر کہاں ہے ۔ سائفر تو ان کے دفتر میں تھا۔ جس کی ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اور ملٹری سیکرٹری پر عائد ہوتی ہے۔

عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ سائفر گمشدگی پر ملٹری سیکرٹری سے کہا اس کی انکوائری کرو۔ ملٹری سیکرٹری نے بتایا کہ انکوائری کی لیکن سائفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لو نے ان کی حکومت کیخلاف سازش کی۔ حسین حقانی نے جنرل باجوہ کے کہنے پر انکے خلاف لابنگ کی۔ جنرل باجوہ نے جب آئی ایس آئی چیف کو تبدیل کیا تو سازش کا آغاز وہیں سے ہوا۔
بیان ریکارڈ ہونے کے بعد جج نے ملزمان سے مخاطب ہوکر کہا خان صاحب، شاہ محمود قریشی صاحب، میری طرف دیکھیں، میں آپ کو 10، 10 سال قید کی سزا سناتا ہوں۔فیصلہ سنانے کے بعد جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین عدالت سے اٹھ کرچلے گئے۔
شاہ محمود قریشی کی بیٹی گوہر بانو کے مطابق فیصلہ سننے کے بعد عمران خان مسکراتے رہے۔ موقع پر شاہ محمود قریشی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میرا تو ابھی بیان ہی ریکارڈ نہیں ہوا۔ سائفر کیس میں سزا ہونے کے بعد عمران خان اور شاہ محمود قریشی 5، 5 سال کیلئے نااہل ہوگئے ہیں۔
عمران خان کی ہمشیرہ حلیمہ خان نے کہا کہ عدالت انصاف کا جنازہ نکالا ہے۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی سے حق دفاع ختم کیا گیا اور انکی فیملی کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالتی کاروائی سے ان کو نکال کر 48 گھنٹے میں 18 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

تحریک انصاف نے سائفر کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلی عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے امید ہے۔ کارکنان انتخابات کی تیاری کریں۔
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے فیصلے کو متنازعہ اور انصاف کا قتل قرار دیدیا۔ علی امین گنڈا پور، زرتاج گل اور دیگر رہنماوں نے بھی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی کاروائی غیرمعملولی تیزی کیساتھ چلائی گئی۔ ہائیکورٹ اس فیصلے کو کالعدم قراردیدے گی ۔ کچھ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ قانونی تقاصے پورے کیے گئے کہ نہیں۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل میں ہی توشہ خانہ کیس کا ٹرائل بھی حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران بشری بی بی کا 342 کے تحت بیان قلمبند کرلیا گیا۔ جبکہ عمران خان کا بیان آج قلمبند کیے جانے کا امکان ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے منگل کے روز اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ بشرہ بی بی کو 25 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عمران خان کا جج محمد بشیر سے مکالمہ بھی ہوا۔ عمران خان نے جج سے کہا کہ آپ نے ہمارا حق دفاع ختم کیا۔ میں خود گواہوں پر جرح کرنا چاہتا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف جھوٹے گواہوں کو پیش کیا گیا۔ میری بیوی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اس کو ذلیل کیا جارہا ہے۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس انکوائری تو سب کچھ سامنے آجاتا۔ انہوں نے اپنے اے ڈی سی پر سائفر غائب کرنے کا الزام عائد کیا۔ توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران جج محمد بشیر کی طبعیت ناساز ہوگئی جس کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی۔کیس کی سماعت آج پھر ہوگی۔
پاکستان میں عام انتخابات میں اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم روز و شور سے جاری ہے۔ منگل کے روز بھی مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کیے۔
ہارون آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر قومی سلامتی کو داو پر لگا دیا۔ اس کا نتیجہ آج عدالت میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دوران پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ لیکن ثاقب نثار نے عمران خان کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ تھما دیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اقتدار میں آکر عوام کے مسائل حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ واضح ہوگیا کہ خان صاحب الیکشن سے باہر ہوچکے ہیں۔ اب میدان میں مقابلہ تیر اور شیر کے درمیان ہوگا۔ خیبرپختونخواہ کے عوام تیر کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔
چیف الیکشن کمیشن نے بلوچستان کے علاقے سبی میں تحریک انصاف کی ریلی میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی بلوچستان سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ منگل کے روز تحریک انصاف کی ریلی میں دھماکے کے دوران 4 افراد جاں بحق اور 7 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پریذائڈینگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات سونپ دیئے ہیں۔
(رپورٹ: اصغرحیات)




