اہم نکات
- اختیارات کی جنگ، سپریم کورٹ اور پارلیمان پھر آمنے سامنے آگئے
- ملک میں ایک ساتھ انتخابات کے معاملے پر حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات ناکام ہوگئے
- لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیدیا، پرویز الہی کی 2 مختلف مقدمات میں ضمانت منظور کرلی گئی
پاکستان کے 2 بڑے اداروں عدلیہ اور مقننہ کے درمیان اختیارات کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے، چیف جسٹس کے اختیارات محددو کرنے سے متعلق عدالتی اصلاحاتی بل کے معاملے پر دونوں ادارے ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں
سپریم کورٹ کے لاجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران پارلیمان کی کاروائی کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے جبکہ حکومتی ارکان کی جانب سے توہین پارلیمنٹ بل لانے کا اعلان کیا گیا ہے، قومی اسمبلی کی استحاق کمیٹی نے توہین پارلیمنٹ بل پر بحث کی، چیئرمین کمیٹی قاسم نون نے میڈیا کو بتایا کہ بل تیاری کے حتمی مراحل میں ہے جسے جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلی عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کا رواج ختم ہونا چاہیے، وزیراعظم کو بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے، سیاستدان حساب دے رہے ہیں اب حساب دینے کی باری عدلیہ کی ہے، چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی نے اسمبلی کے فلور پر عدم پیشی کی صورت میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا ہے
ملک میں ایک ہی دن انتخابات کے حوالے سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوسکے ہیں، دونوں فریقین میں اسمبلیوں کی تحلیل اور انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے اتفاق رائے نہ ہوسکا، حکومت اور تحریک انصاف کی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا تیسرا اور حتمی دور پارلیمنٹ ہاوس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، حکومتی اتحاد کی جانب سے اسحاق ڈار، یوسف رضا گیلانی، سعد رفیق، کشور زہرہ، طارق بشیر چیمہ ، اعظم نذیر تارڑ، سید نوید قمر جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر مذاکرات میں شریک ہوئے، پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پاکستان عوامی لیگ کے کارکنان نے مذاکرات کی کامیابی کیلئے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف نے مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کیا لیکن اس کے باوجود اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کروانے پر اتفاق ہوگیا، اسمبلیوں کی تحلیل اور انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے کچھ پیچیدگیاں ہیں جنہیں دور کرلیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے ، منگل 02 فروری کو عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنماون کیخلاف 121 مقدمات کے اندارج کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عدالت کے روبرو پش ہوئے، عمران خان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے جارہے ہیں، عدالت نے عمران خان کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو 8 مئی تک تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، عدالت کے روبرو پیشی کے دوران عمران خان نے کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، ان کو قتل کرنے کی تیسری بار منصوبہ بندی کی جارہی ہے، نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باوجوہ کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں نیب جنرل باوجوہ کے کنڑول میں تھا، جنرل باجوہ مدت ملازمت میں توسیع لینے کے بعد بالکل بدل گئے تھے، باجوہ نے ہی انہیں الیکشن کرانے کا کہہ کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا

لاہور ہائیکورٹ نے صدر پاکستان تحریک انصاف چوہدری پرویز الہی کی 2 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی ہے، منگل 02 فروری کو چوہدری پرویز الہی لاہور ہائیکورٹ کے روبرو پش ہوئے، عدالت نے انٹی کرپشن کے مقدمے 15 مئی تک جبکہ انسداد دہشتگردی کے مقدمے میں 2 روز کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پرویر الہی کو متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے، پرویز الہی نے اپنے گھر پر ہونیوالی کاروائی کا ذمہ دار قائمقام وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو قرار دیا ہے، ادھر پنجاب انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی گرفتاری کیلئے چھاپے شروع کردیئے ہیں، منگل 02 مئی کو انٹی کرپشن کی ٹیم عثمان بزدار کو گرفتار کرنے پنجاب یونیورسٹی کی کالونی پہنچ گئی، جہاں پر سرچ کے بعد ٹیم واپس روانہ ہوگئی، پنجاب انٹی کرپیشن کے مطابق سابق وزیراعلی عثمان بزدار کیخلاف ڈیرہ غازی خان میں اراضی پر قبضے کا مقدمہ درج کیا گیاہے
رپورٹ : اصغرحیات




