اہم نکات
- صوبہ خبرپختونخواہ کے دارلحکومت میں خود کش دھماکہ، ہلاکتوں کی تعداد 100 ہوگئی، واقعے کی تحقیقات کیا رخ اختیار کررہی ہیں؟
- تحریک انصاف نے حکومت پر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ملتوی کرنےکی سازش کا الزام لگایا ہے
- فواد چوہدری کی ضمانت نہ ہوسکی، شیخ رشید تھانے طلب،عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
- الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کو مسلم لیگ ق کی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے دارلحکومت پشاور کی پولیس لائنز میں ہونیوالے خود کش حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، خود کش حملے میں شہید ہونیوالوں کی تعداد 100 ہوگئی ہے، جبکہ 53 زخمیوں میں سے 5 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 10 سے 12 کلو تک بارودی مواد استعمال کیا گیا، زیادہ اموات مسجد کی چھت گرنے اور نمازیوں کے ملبے تلے آنے کی وجہ سے آئی ہیں، پاکستان کی فوج نے خود کش حملے کی مذمت کی ہے، حملے کے بعد راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا، سینیٹ اجلاس کے دوران سانحہ پشاور پر بحث کی گئی، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ضرب عضب طرز پر آپریشن کا عندیہ دیدیا، انہوں نے کا آپریشن کا حتمی فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کرے گی

پاکستان میں اپوزیشن کی جماعت تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت امن و امان کو بنیاد بنا کر پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کے انتخابات ملتوی کرنا چاہتی ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اگر حالات غیر معمولی ہوں تو انتخابات کی تاریخ آگے پیچھے کی جاسکتی ہے اور ماضی میں اس کی نظیر موجود ہے، انہوں نے کہا کہ 1988 میں ملک میں سیلاب کے باعث انتخابات ملتوی ہوئے تھے جبکہ 2008 میں بے نظیر کی شہادت کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابات چند دن آگے کردیئے تھے، دوسری جانب تحریک انصاف نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر کو آئین شکنی کے مترادف قرار دیا ہے

تحریک انصاف کے گرفتار رہنما فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر سماعت تفتیشی کی عدم پیشی پر ملتوی کردی گئی ہے، فواد چوہدری کی اہلیہ حبہ چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر فواد چوہدری کیس میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے تاکہ ان کے شوہر کو ذلیل کیا جاسکے، فواد چوہدری اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر آڈیالہ جیل میں ہیں اور انہیں اسلام آباد پولیس نے 25 جنوری کو سیکرٹری الیکشن کمیشن کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا، ادھر سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے، متروکہ وقف املاک کی جانب سے راولپنڈی میں شیخ رشید احمد کی ملکیت لال حویلی کو سیل کیا گیا لیکن شیخ رشید لال حویلی کی سیل توڑ کر اندر داخل ہوگئے ، انہوں نے کہا راولپنڈٰی کی دونوں نشستوں پر عمران خان ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گے

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں 7 فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے، دوسری جانب اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی ہے، عدالت نے آئندہ سماعت میں عمران خان کی حاضری کو لازمی قرار دیا ہے۔

مسلم لیگ ق کی پارٹی صدارت کی جنگ چوہدری شجاعت حسین نے بلاآخر جیت لی ہے، الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت کو پارٹی صدارت کے عہدے پر بحال رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے، الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کی درخواست پر گزشتہ سال 18 اگست کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں ق لیگ کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیرقانونی قرار دیا ہے ، الیکشن کمیشن نے طارق بشیر چیمہ کو سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی بحال کردیا ہے
(بشکریہ اصغرحیات)



