اہم نکات
- سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیس، لاپتہ افراد کیس کی سماعت
- بلے کے نشان اور ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے تنازعات
- لاپتہ افراد دھرنا، وزیراعظم کا گلہ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کے کیس میں تین عدالتی معاون مقرر کرلیے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب کیس کی پہلی روز کی سماعت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت اس کیس میں فیصل صدیقی، عزیر بھنڈاری اور ریما عمر کو عدالتی معاون مقرر کرتی ہے۔
عدالتی معاونین تحریری دلائل جمع کروا سکتے ہیں۔ منگل کے روز چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن لڑنے کیلئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے قائد اعظم بھی ہوتے تو نااہل ہوجاتے۔
سماعت کے آغاز پر ہی اٹارنی جنرل نے عدالت سے باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی۔ چیف جسٹس کے استفسار کرنے پر تمام ایڈووکیٹ جنرلز نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی اٹارنی جنرل کے مؤقف کی تائید کردی.
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہوچکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔ اس دوران جسٹس منصور نے سوال کیا کہ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پرتاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟ ایک شخص کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک اہم قانونی نقطہ ہے جسے نمٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کوشش کریں گے 4 جنوری کو سماعت مکمل کردیں۔

لاپتہ افراد و جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل شعیب شاہین کو جھاڑ پلا دی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت اعتزاز احسن کے وکیل شعیب شاہین نے شیخ رشید احمد، صداقت عباسی اور دیگر کی گمشدگیوں کا معاملہ بھی اُٹھایا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ سب لوگ خود ہمارے سامنے درخواست گزار بنے ہیں؟ کیا یہ سب وہ لوگ ہیں جو خود وسائل نہیں رکھتے کہ عدالت آ سکیں؟ آپ اس معاملے کو سیاسی بنانا چاہتے ہیں تو یہ فورم نہیں ہے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور عدالت کا مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دوران سماعت شعیب شاہین نے سینیٹر شیریں مزاری کے لاپتہ افراد سے بل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بل سینیٹ سے غائب کردیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین سینیٹ کس کے ووٹ سے بنے ؟ کیا آپ نے ان کو ہٹانے کی درخواست کی؟
پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔الیکشن کمیشن کی درخواست پرسماعت جسٹس اعجاز خان نے کی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندرمہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا تھا کہ انٹراپارٹی الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے، یہ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کوایسا فیصلہ دینے کا اختیار نہیں ہے ، اختیارات پر سوال اٹھائےگئے،کہاگیا الیکشن کمیشن کافیصلہ غیرآئینی ہے۔سکندرمہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سنے بغیر حکم امتناع جاری کردیا، الیکشن کمیشن اس میں فریق تھا اس کو نہیں سناگیا، وفاقی حکومت اس کیس میں فریق ہی نہیں ہے، وفاقی اورصوبائی حکومت نےضمنی درخواست جمع کرائی کہ اس آرڈرمیں تصحیح کی جائے۔
عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ ملک بھر میں تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کی ہیں۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، ان کے بھتیجے شیخ رشید شفیق، سابق وزیر قانون بشارت راجہ ، اسلام آباد کے حلقہ این 47 سے جماعت اسلامی کے امیدوار کاشف چوہدری نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیٹے اواب علوی نے بھی حلقہ این اے 241 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کا اقدام چیلنج کیا ہے۔ حلقہ پی ایس 76 کے پی ٹی آئی کے امیدوار وحید رند اور پی ایس 75 ٹھٹھہ کے امیدوار سید امجد شاہ نے الیکشن ٹریبونل میں درخواست دائر کردی۔ الیکشن ٹربیونلز نے درجنوں امیدواروں کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے نوٹسسز جاری کردیئے ہیں۔

تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے امیدواروں کے بڑے پیمانے پر کاغذات مسترد کیے گئے ہیں اور اسے انتخابات میں لیول پلئینگ فیلڈ نہیں دی جارہی۔ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے۔ سپریم کورٹ پر حملے کو بنیاد بنا کر این اے 132 سے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کردی گئی ہے۔ شاہد اورکزئی نے درخواست کی ہے کہ شہباز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے۔ این اے 130 میں میاں نواز شریف کے کاغذات کی منظوری کیخلاف درخواست پر الیکشن ٹربیونل نے اعتراض عائد کردیا ہے۔ اعتراض میں کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کی کاپی درخواست کے ساتھ نہیں لگائی گئی۔
انتخابات کا دنگل سجتے ہی ملک بھر میں انتخابات کی گہما گہمی عروج پر پہینچ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم اور سیاسی اتحاد و سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے مشاورت جاری ہے۔ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے مسلم لیگ ن میں اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ شیخ روحیل اصغر، ایاز صادق، طلال چوہدری اور نواب شیر او سیر ، احسن اقبال اور دانیال سمیت کئی رہنما پارٹی ٹکٹوں کے حصول کے حوالے سے آمنے سامنے آگئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لاہور پہنچ گئے ہیں۔ بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلاول ہاؤس لاہور میں طلب کرلیا ہے، اجلاس میں پارٹی کی انتخابی مہم، عام انتخابات کے حوالے پارٹی ٹکٹس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور سیٹ ایڈ جسٹمنٹ پر غور کیا جائیگا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ 2 صوبے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں۔ الیکشن کمیشن 8 فروری کو انتخابات کے حوالے سے نظر ثانی کرے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اگر دہشتگردی یا موسم کی وجہ سے ٹرن آوٹ کم ہوا تو اس سے دھاندلی کا راستہ کھلے گا۔ ادھر جے یو آئی ف نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کی وجہ سے کوئی بھی نقصان ہوا تو ذمے دار الیکشن کمیشن ہوگا۔ اے این پی سمیت کئی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ پرویز خٹک کی قیادت میں قائم تحریک انصاف پارلیمنٹیرین نے کے پی میں کسی دوسری جماعت کیساتھ اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جاوید قریشی نے جماعت اسلامی میں شمولیت اخیتار کرلی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ایک تقریب کے دوران پارٹی مفلر پہننا کر جاوید قریشی کو پارٹی میں خوش آمدید کہا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر دھرنے میں موجود لاپتہ افراد کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ان تک کھانے اور بستر کی رسائی روک رہی ہے۔ جبکہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔پاکستان کے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ان کی لڑائی لاپتہ لواحقین کے ساتھ نہیں ہے۔ ان لواحقین کے ساتھ موجود افراد کے ساتھ ان کا گلہ ہے۔ جو چیزوں میں کنفوژن پیدا کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح تنظیمیں بلوچستان میں شہریوں کو قتل کررہی ہیں۔ ایسے لوگوں کو قانون کی گرفت میں لانے کی بات ہونی چاہیے۔ ان کی حکومت نے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ بات چیت شروع کی لیکن دوسری جانب سے ایسے ایسے مطالبہ سامنے آئے جنہیں دہراتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے۔
(رپورٹ: اصغرحیات)




