دوران ڈرائیونگ نیند آنا عام سی بات ہے اور گاڑی چلاتے ہوئے سو جانے سے روزانہ کئی افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو متعدد زخمی بھی ہو جاتے ہیں۔ کراچی کے ننھے طلبہ نے اب اس مشکل کا حل ڈھونڈ لیا اور ایک ایسی عینک بنا لی جسے پہننے سے گاڑی چلانے والے ڈرائیور کو اونگھتے ہی ایک الرٹ موصول ہو گا جس سے وہ فوری طور پر بیدار ہو جائے گا اور ممکنہ حادثہ سے بچاؤ بھی ممکن ہو سکے گا۔
کراچی کے ان ننھے طلبہ کی اس شاندار ایجاد پر نہ صرف انھیں پاکستان بھر میں سراہا گیا بلکہ امریکی خلائی ادارے نے ناسا نے بھی ان باصلاحیت طلبہ کو ناسا سینٹر کے دورے پر بلا لیا۔
کراچی کے تین مقامی اسکولوں کے 24 بچوں کو امریکی قونصل خانے اور داؤد فائونڈیشن کے باہمی تعاون سے ہنٹس ول الاباما میں امریکی خلائی اور راکٹ سینٹر کے تعلیمی خلائی کیمپ کا دورہ کروایا گیا۔ جہاں طلبہ اور ان کے اساتذہ نے ناسا کی اسپیس اینڈ راکٹ سینٹر میں خلائی کیمپ میں شرکت کی۔ اس دوران پاکستان کے ان مستقبل کے سائنسدانوں کو ناسا اسپیس کیمپ میں سائنسی اور خلائی تجربات کے ساتھ ساتھ سیاروں کے بارے میں مختلف معلومات، راکٹ بنانے، مصنوعی مون واک سمیت مختلف فن ایکٹیویٹیز میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔

ناسا کے دورے کے بعد وطن واپسی پر مستقبل کے ان سائنس دانوں کی خوشی دیدنی تھی، اینٹی سلیپ گلاسز فار ڈرائیور بنانے والے گروپ میں شامل ایک طالب علم ریحان نے ایس بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید نہیں کی تھی کہ ناسا اسپیس کیمپ میں شرکت کروں گا، یہ کسی خواب سے کم نہیں۔

ریحان کے مطابق اس پروجیکٹ کی تکمیل میں صرف دو ہفتے کا کم وقت اور لاگت صرف 1500 روپے کی آئی، ریحان کہتے ہیں اس اینٹی سلیپ گلاسز بنانے کا مقصد ٹریفک حادثات کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
طلبہ کے اس گروپ میں کچھ ایسے بھی طالب علم بھی شامل تھے جنھوں نے مرغی کے پروں سے ماحول دوست کاغذ بنانے جیسا منفرد پروجیکٹ بنایا، یہی نہیں بلکہ کچھ طلبہ نے تو پلاسٹک سے روڈ بنا دی۔
محمد فیضان شیخ ان بچوں کے استاد ہیں ، ایس بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے فیضان شیخ نے کہا کہ ناسا اسپیس کیمپ میں شرکت کا موقع شاندار رہا، پاکستان میں بھی اس طرح کی سہولت ہونی چاہیے۔ فیضان شیخ کے مطابق امریکہ جانے والے تو صرف 24 بچے ہیں لیکن پاکستان میں تو ایسے ہزاروں بچے موجود ہیں جو ایسٹروناٹس بننا چاہتے ہیں۔
ہونہار بچوں کی ایک ٹیچر نرگس مجید کے مطابق پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ان طلبہ کو بس تھوڑی سے سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر مذہب، رنگ، نسل اور قومیت کے لوگ بستے ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے یہاں آباد ہندو برادری کو جبری مذہب کی تبدیلی، قبرستان کی کم ہوتی ہوئی جگہ اور شمشان گھاٹ کی کم یابی کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ ایسے میں پاکستان ہندو کونسل کے زیر اہتمام ان مسائل کے حل کی تلاش کیلیے کراچی کے مقامی ہوٹل میں کراچی فار مائینارٹیز کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن انچیف ڈاکٹر رمیش کمار نے ہندؤ لڑکیوں کی جبری مذہب کی تبدیلی کے مسئلے پرآواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہندؤ لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرایا جا رہا ہے ۔ اس کی روک تھام اور قانون کا ہونا لازم ہے۔

صوبائی وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے ڈاکٹر رمیش کمار کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سندھ میں کسی کمیونٹی کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے لیکن اس طرح کے واقعات انتہائی کم تعداد میں ہیں۔
اس موقع پر میئرکراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ جتنی خدمات پارسی ، ہندو ، عیسائی کمیونٹی کی کراچی، سندھ اور پاکستان کے حوالے سے ہیں وہ کسی مسلمان سے کم نہیں۔

میئرکراچی کہتے ہیں بڑے بڑے رہنماوں کا کراچی کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلیے ذکر کیا جاتاہے لیکن ہم ان غیر مسلم رہنماؤں کا کردار بھول گئے جنھوں نے کراچی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔
میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہندو برادری کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کیلیے کوشاں ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کیلیے بھی قبرستان کے جگہ تلاش کریں گے ۔
بشکریہ: احسان خان۔ پاکستان




