یمنفرد اور اچھوتے آئیڈے پر بنی ٹوڈی اینیمٹڈ فلم دی گلاس ورکر کو دیکھنے والے بھی خوب پسند کر رہے ہیں، بچے ہوں یا بڑے سب ہی فلم کے متعرف نظر آتے ہیں تاہم اس فلم کو بنانا اتنا آسان نہیں تھا، تقریبا 10 سال سے زائد کا عرصہ صرف اس ٹوڈی اینیمیٹڈ فلم گلاس ورکر کو بنانے میں صرف ہوئے، فلم کے آئیڈے سے لے کر فریمز بنانا، میوزک، عکس بندی، آرٹ، صداکاری، کمپوزنگ کرنا اور اسے سینیما گھروں تک پہنچانے میں کئی مشکلات درپیش رہیں تاہم اس فلم کے ڈائریکٹرعثمان ریاض اور ان کی ٹیم نے ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور فلم دی گلاس ورکر کو کامیابی کے ساتھ پاکستان، جاپان اور امریکہ سمیت 50 سے زائد ممالک میں نمائش کیلیے پیش کیا جسے فلم بینوں کی جانب سے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، پاکستان میں اس فلم کو 30 سے زائد سینیماز اور 200 سے زائد اسکرینز پردکھایا جارہا ہے۔

گلاس ورکر کے ڈائریکٹرعثمان ریاض کہتے ہیں مجھے بچپن سے ہی ہینڈ ڈران اینیمیشن کا شوق ہے اور فلمیں بھی ہینڈ ڈران ہی دیکھتا تھا، ہینڈ ڈران میں ہی مجھے دلچسپی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری یہ فلم بھی ہاتھ سے بنائی گئی ہے۔
فلم کی کہانی سے متعلق عثمان ریاض نے بتایا کہ دی گلاس ورکر فلم جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں ہے، فلم میں دو ایسے کردار دکھائے گئے ہیں جو دو مختلف سماج سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں ایک ’آرٹسٹ‘ ہے اور دوسرا ’وائلنسٹ‘ ، دونوں کرداروں پر جنگ کی وجہ سے اثرانداز ہونے والے حالات دکھائے گئے، کہانی میں ایک پیغام ہے جسے دیکھنے والے ضرور سراہیں گے۔

ہدایت کارعثمان ریاض کہتے ہیں یہ فلم بچوں کو ضرور پسند آئی گی تاہم فلم کی بہترین کہانی نوجوانوں کو بھی اپنی طرف کھینچے گی۔
عثمان ریاض کہتے ہیں سال 2014 میں فلم بنانا شروع کی، فلم کو مکمل کرنے میں تقریبا دس سال لگے، 2014 سے لے کر 2019 تک فلم کا بنیادی اسٹرکچر بنایا، ساتھ ہی اپنی ٹیم کو ہینڈ ڈران اینیمیشن کے حوالے سے سکھایا کہ کس طرح یہ کام ہوتا ہے اُس کے ساتھ ساتھ ایک پائلٹ اینیمیشن بنایا اور اسے جاپان لے کر گئے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر ماہرین ہمارے ساتھ جڑتے رہے اور فلم کی تیاری آگے بڑھتی رہی۔
عثمان ریاض بتاتے ہیں کہ فلم کیلیے ہر ایک فریم انتہائی محنت اور نفاست کے ساتھ ہاتھ سے بنایا گیا ہے، فلم کے اسٹوری بورڈ بھی خود بنائے جبکہ 1470 شاٹس بھی ہاتھ سے ہی بنائے گئے ہیں۔

اس سوال پر کہ پاکستان میں اینیمٹڈ فلموں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بدستور موجود ہے پھر بھی دس سال کی انتھک محنت سے ٹوڈی اینیمیٹڈ فلم کیوں بنائی ؟ جس پر عثمان ریاض نے جواب دیا کہ میں پاکستان میں فلمی صنعت کے ماضی یا مستقبل سے متعلق نہیں سوچتا، ہمارا کام ایک بہترین پراڈکٹ فلم بینوں تک پہنچانے کا تھا جس میں ہم اپنی محنت اور لگن سے کامیاب رہے۔
فلم گلاس ورکر کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ فلم بنانے کا آغاز اردو زبان میں ہوا تھا تاہم بعد میں اسے انگریزی زبان میں منتقل کر دیا گیا لیکن پاکستان میں فلم بینوں کیلیےاسے اردو زبان میں ڈب بھی کیا گیا ہے۔
عثمان ریاض کہتے ہیں فلم کی پرفارمنس سےکافی پُرامید ہوں، فلم سینیما گھروں میں اچھی رہی اور لوگوں کا ردِعمل مثبت ہوا تو مستقبل میں ایک اور اینیمیٹڈ فلم بھی بنا سکتے ہیں۔
سینیما میں آکر فلم دیکھنے والے گلاس ورکر کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے، احمد بھی اپنے بچوں کے ساتھ فلم دیکھنے سینیما گھر پہنچے اور فلم دیکھی۔ احمد کہتے ہیں یقین کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ اس فلم کے فریمز ہاتھ سے بنائے گئے ہیں، کہانی ، میوزک ، عکس بندی سب کچھ بہترین تھا، امید ہے اس طرح کی مزید اینیمیٹڈ فلمیں معاشرتی موضوعات پر پاکستانی فلم انڈسٹری کا وقتا فوقتا حصہ بنتی رہیں گی۔
سینیما گھروں کا رُخ کرنے والے دیگر شہریوں نے بھی فلم گلاس ورکر کی کہانی کو سراہا ۔
(ایس بی ایس اردو کیلیے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی ہے۔)
_________________________________________________________________
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو
کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
§ ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
§ اردو پرگرام سننے کے اور طریقے
§ “SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
یا اینڈرائیڈ
ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
§ پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:








