فلسطینی غزہ کی جنگی تباہی کے ملبے سے اپنی تاریخی وراثت بچانے کی کوششوں میں مصروف

Israel Palestinians Gaza

A view of the Great Omari Mosque in Gaza City after it was damaged by an Israeli strike during the war with Hamas, Wednesday. Feb. 12, 2025. (AP Photo/Jehad Alshrafi) Source: AP / Jehad Alshrafi/AP

غزہ کی پٹی انسانی تاریخ کے کچھ غیرمعمولی آثار کی حامل ہے، جو کانسی کے دور سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ اور برطانوی دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔


جنگ سے پہلے بھی کئی تاریخی مقامات عدم توجہی کا شکار تھے — لیکن اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 150 تاریخی ورثے کے مقامات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

غزہ سٹی کے اس حصے میں ایک فٹبال کلب کی سہولیات — جن میں اس کے میدان بھی شامل ہیں — اسرائیلی کارروائی کے بعد ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ یہ کارروائی حماس کی قیادت میں سات اکتوبر کے مہلک حملے کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کارروائی میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے اندازے کے مطابق غزہ سٹی کی 83 فیصد عمارتیں یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں یا کسی نہ کسی درجے کا نقصان اٹھا چکی ہیں۔

_______________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now