حکام میلبورن کے مضافات میں لووٹ ٹیکنالوجیز پر مبینہ دہشت گرد حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ کمپنی ایف-۳۵ جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر طیاروں کے پرزے تیار کرتی ہے۔حالیہ برسوں میں عالمی ایف-۳۵ سپلائی چین میں آسٹریلیا کی شمولیت کو تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ امریکہ میں تیار کردہ یہ لڑاکا طیارے اسرائیل نے غزہ پر حملوں کے لیے استعمال کیے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے فلسطین کی حمایت کا اظہار کیا اور دفاعی سپلائی چین سے تعلق کی وجہ سے اس تنصیب کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات میں انارکسٹ اور انقلابی نظریات شامل ہو سکتے ہیں۔
حکام وکٹوریہ کی ایک مینوفیکچرنگ کمپنی پر حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے انتہائی بائیں بازو کے ایسے انتہا پسندوں نے منظم کیا ہو سکتا ہے جو انارکسٹ اور انقلابی نظریات رکھتے ہیں۔
جے سی ٹی ٹی کے ایک بیان کے مطابق، کرمنل کوڈ کے تحت دہشت گردی کے جرائم میں سزا ہونے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے
وکٹورین جوائنٹ کاؤنٹر ٹیررازم ٹیم، یا جے سی ٹی ٹی، نے آج ان مشتبہ افراد کی نئی تصاویر جاری کی ہیں جن پر ۵ جولائی ۲۰۲۵ کی علی الصبح لووٹ ٹیکنالوجیز کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی یا سماجی نقطہ نظر کے اظہار کے لیے پُرتشدد یا خطرناک طریقے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ ہمیں فیس بُک اور انسٹا گرام پر فالو کیجئے۔





