آسٹریلیا میں پراپرٹی مارکیٹ کریش کی خبروں کے درمیان بائرز ایجنٹ منہال لاکھانی نے ایس بی ایس سے گفتگو میں بتایا کہ یہ دراصل ایک کریش نہیں بلکہ مارکیٹ کی قدرتی کریکشن ہے، جو بلند قیمتوں والے علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے جبکہ سستے علاقے اب بھی مستحکم ہیں۔
منہال لاکھانی کا کہنا ہے کہ لفظ کریش کا استعمال گمراہ کن ہے کیونکہ یہ دراصل ایک عام مارکیٹ کریکشن ہے جو انٹرسٹ ریٹس میں اضافے اور بعض علاقوں میں گزشتہ پانچ سے چھ سالوں کے دوران اسی سے سو فیصد تک قیمتوں میں اضافے کے باعث آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ڈیڑھ سے دو ملین ڈالر مالیت والے مہنگے علاقوں میں واضح کریکشن دیکھا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ سستے اور قابلِ برداشت علاقوں میں فروخت کی سرگرمی بدستور مستحکم ہے۔ فرسٹ ہوم بائرز کے لیے یہ ایک اچھا موقع قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ بڑھنے سے قیمتوں میں معمولی کمی اور مول تول کی گنجائش بڑھ جاتی ہے، تاہم پراپرٹی کو پانچ سے سات سال کے طویل المدتی نقطہ نظر سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ قلیل مدتی کمی کے باوجود مارکیٹ عموماً بحال ہو جاتی ہے، جیسا کہ کووڈ کے بعد دیکھا گیا۔ نئے تعمیر شدہ علاقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نئے گھروں کی قیمت میں تعمیراتی لاگت کا حصہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ پرانے، قائم شدہ علاقوں میں زمین کی قیمت کا حصہ زیادہ ہوتا ہے، اور خریداروں کو کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنی خاندانی ضروریات، تعلیمی سہولیات، اور سفری سہولیات جیسے عوامل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔





