مردوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ پروسٹیٹ میں عام طور پر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی تبدیلیاں بے ضرر ہوتی ہیں، لیکن بعض تبدیلیاں کینسر کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔ آسٹریلیا میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک مرد کو اپنی زندگی کے دوران پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہونے کا امکان ہے۔ ابتدائی مراحل میں پروسٹیٹ کینسر کی وجہ سے عموماً کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اسی لیے یہ سمجھنا اہم ہے کہ آپ کو پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ کتنا ہے، یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹیسٹ کب مناسب ہو سکتا ہے، اور اپنے ڈاکٹر سے علاج کے دستیاب اختیارات کے بارے میں بات کرنا چاہیے۔
- پروسٹیٹ غدود کیا ہے اور اس میں مسائل کیوں پیدا ہو سکتے ہیں؟
- پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کے عوامل کیا ہیں اور اس کی تشخیص کے لیے کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں؟
- پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے کیا اختیارات موجود ہیں؟
- پروسٹیٹ کینسر کا سامنا کرنا کیسا تجربہ ہوتا ہے؟
- پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا مردوں کے لیے کس قسم کی معاونت دستیاب ہے؟

پروسٹیٹ غدود کیا ہے اور اس میں مسائل کیوں پیدا ہو سکتے ہیں؟
پروسٹیٹ تقریباً ایک اخروٹ کے برابر ہوتا ہے اور مثانے کے نیچے واقع ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈیکلن مرفی، یورولوجسٹ اور میلبورن کے پیٹر میک کیلم کینسر سینٹر میں جینیٹو یورینری آنکولوجی کے ڈائریکٹر ہیں۔
یہ وہ سیال بناتا ہے جو اسپرم کے ساتھ مل کر منی بناتا ہے، اور یہ سیال اسپرم کو تحفظ فراہم کرنے اور اس کی غذائیت میں مدد کرتا ہے۔ لہٰذا اس کا بنیادی کردار انزال کے عمل میں ہے۔
مردوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ پروسٹیٹ غدود اکثر بڑا ہو جاتا ہے اور یوریتھرا، یعنی وہ نالی جو پیشاب کو جسم سے باہر لے جاتی ہے، پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مردوں کو رات کے دوران کئی مرتبہ اٹھ کر مثانہ خالی کرنے کے لیے پیشاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ آسٹریلین پروسٹیٹ سینٹر سے وابستہ یورولوجی نرس پریکٹیشنر ہیلن کرو اس کی وضاحت کرتی ہیں۔
"یہ صرف پروسٹیٹ کا ایک بے ضرر بڑھ جانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کینسر سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ عمر بڑھنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ لیکن پروسٹیٹ کا یہ بڑھ جانا مثانہ خالی کرنے میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے، اور اسی وقت اکثر مردوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا پروسٹیٹ غدود موجود ہے، کیونکہ اب یہ ان کے لیے کچھ مسائل پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔"
پروسٹیٹ غدود میں سوزش یا انفیکشن بھی ہو سکتا ہے، جسے پروسٹیٹائٹس کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے عموماً عضوِ تناسل اور مقعد کے درمیان موجود حصے، یعنی پرینیئل ریجن، میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اس سے نیند متاثر ہو سکتی ہے اور ورزش کرنا یا حتیٰ کہ بیٹھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
"یہ تجربہ خاصا تکلیف دہ ہو سکتا ہے، اور مرد اپنے جی پی، یعنی جنرل پریکٹیشنر، کے پاس یہ شکایت لے کر آتے ہیں کہ تکلیف کی وجہ سے انہیں سونے میں دشواری ہو رہی ہے، یا بیٹھنے یا ورزش کرنے کے دوران انہیں بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔"
پروسٹیٹ غدود میں کینسر بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، جیسا کہ پروفیسر مرفی بتاتے ہیں، اس بیماری میں عموماً کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کے عوامل کیا ہیں، اور اس کی تشخیص کے لیے کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں؟
"اگرچہ کچھ مردوں کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا اور اس کی صرف نگرانی کی جا سکتی ہے، لیکن دوسرے مردوں کے لیے یہ بیماری بہت سنگین ہو سکتی ہے، نمایاں علامات پیدا کر سکتی ہے اور یہاں تک کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔دنیا بھر میں پروسٹیٹ کینسر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی مقالے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2020 سے 2040 کے درمیان دنیا بھر میں پروسٹیٹ کینسر کے کیسز کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔آسٹریلیا میں جلد کے کینسر کے علاوہ، پروسٹیٹ کینسر مردوں میں تشخیص ہونے والا سب سے عام کینسر ہے۔آسٹریلیا میں کسی مرد کو 80 سال کی عمر تک پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہونے کا امکان تقریباً پانچ میں سے ایک ہے۔"
محترمہ کرو کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مردوں کو پروسٹیٹ کینسر کیوں لاحق ہوتا ہے۔
پروسٹیٹ کینسر کی وجوہات ابھی پوری طرح معلوم نہیں ہیں۔ البتہ اس کے تسلیم شدہ خطرے کے عوامل میں بڑھتی ہوئی عمر، خاندان میں اس بیماری کی تاریخ، اور وراثت میں ملنے والی بعض جینیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ محققین طرزِ زندگی سے متعلق عوامل کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
پروسٹیٹ اسپیسفک اینٹی جن، یا PSA، کا خون کا ٹیسٹ علامات ظاہر ہونے سے پہلے پروسٹیٹ کینسر کی ممکنہ موجودگی کے آثار کا پتا لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔
تقریباً 50 سال کی عمر سے مرد اپنے جی پی سے بات کر سکتے ہیں کہ آیا ان کے لیے باقاعدگی سے PSA ٹیسٹ کروانا مناسب ہے یا نہیں۔ جن مردوں کو کینسر کا خطرہ زیادہ ہو، انہیں یہ گفتگو اس سے کم عمر میں شروع کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر مرفی وضاحت کرتے ہیں۔ "اگر آپ کو پروسٹیٹ کینسر کے بارے میں تشویش ہے تو علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہ کریں۔ کچھ مخصوص افراد میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، مثلاً وہ افراد جن کے خاندان میں اس بیماری کی مضبوط تاریخ موجود ہو، وہ افراد جن میں کوئی جینیاتی تبدیلی پائی جاتی ہو، اور بعض نسلی پس منظر رکھنے والے افراد، مثلاً افریقی-کیریبین مرد۔ ایسی صورتِ حال میں ہم تجویز کرتے ہیں کہ تقریباً 45 سال کی عمر سے انہیں اپنے ڈاکٹر سے معائنہ اور ٹیسٹنگ کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔"

پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے کیا امکانات موجود ہیں؟
پروفیسر مرفی بتاتے ہیں کہ پروسٹیٹ کینسر کا انتظام اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ تشخیص کے وقت کینسر کس مرحلے میں ہے اور وہ کتنا تیزی سے بڑھنے والا یا جارحانہ ہے۔
مریضوں کو یہ اطمینان دلانا چاہیے کہ پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کا مطلب اب یہ نہیں کہ لازماً اس کا فوری علاج کروانا ہی پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل آسٹریلیا جیسے ممالک میں، جہاں 90 فیصد سے زیادہ مریضوں میں تشخیص کے وقت کینسر صرف پروسٹیٹ تک محدود ہوتا ہے، ہمارے لیے یہ تجویز کرنا بہت عام ہے کہ کینسر کے انتظام کے لیے باقاعدہ نگرانی یا مانیٹرنگ ایک مناسب طریقہ ہو سکتی ہے۔
فعال نگرانی کے دوران مریضوں کے باقاعدگی سے ٹیسٹ اور طبی معائنے کیے جاتے ہیں تاکہ کینسر پر نظر رکھی جا سکے۔ اگر اس بات کے آثار ظاہر ہوں کہ کینسر بڑھ رہا ہے یا آگے پھیل رہا ہے، تو پھر علاج پر غور کیا جاتا ہے۔
پروفیسر مرفی بتاتے ہیں کہ پروسٹیٹ کینسر کی زیادہ جارحانہ اقسام میں سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیموتھراپی اور ہارمون تھراپی سمیت مختلف علاج کے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
اب ہمارے پاس اس کینسر کو قابو میں رکھنے کے لیے بہت سے مختلف طریقے موجود ہیں۔ اور یہ کہنا درست ہوگا کہ گزشتہ تقریباً دس برس کے دوران مریضوں کے لیے دستیاب علاج کے اختیارات میں نمایاں بہتری آئی ہے، حتیٰ کہ اس صورت میں بھی جب کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہو۔
علاج کے نتائج کینسر کی قسم اور اس کے مرحلے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے والے پروسٹیٹ کینسر میں عموماً زندہ رہنے کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کا سامنا کرنا کیسا تجربہ ہوتا ہے؟
ڈینی موئل 65 سال کے تھے جب ان کے جی پی نے انہیں یورولوجسٹ سے معائنہ کروانے کے لیے بھیجا، کیونکہ ان کے PSA ٹیسٹ کی سطح بتدریج بڑھ رہی تھی۔
ہم نے مزید ٹیسٹ کروائے اور ان کی تجویز یہ تھی کہ پورا پروسٹیٹ نکالنے کی سرجری، یعنی مکمل پروسٹیٹیکٹومی، کروائی جائے۔ میں نے اسی سال یہ آپریشن کروایا۔اور تب مجھے واقعی اس کی سنگینی کا احساس ہوا، کیونکہ آپ سوچتے ہیں کہ میرے تولیدی اعضا کا ایک اہم حصہ نکال دیا جائے گا، اور اس کا میری جنسی زندگی اور دوسری چیزوں پر بہت بڑا اثر پڑے گا۔
تاہم، سرجری کے بعد مسٹر موئل کی PSA کی سطح دوبارہ بڑھنے لگی، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کینسر کے خلیے اب بھی ان کے جسم میں موجود ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ کینسر اب بھی جسم میں کہیں موجود ہے۔ ظاہر ہے، پروسٹیٹ میں نہیں، کیونکہ وہ نکالا جا چکا ہے۔لیکن پروسٹیٹ کینسر کے خلیوں کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ جسم میں کہاں موجود ہیں، وہ PSA بناتے رہیں گے۔ لہٰذا وہ جسم میں کہیں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
اگلے پانچ برسوں کے دوران مسٹر موئل کے ڈاکٹروں نے ان کی PSA کی سطح کی مسلسل نگرانی جاری رکھی۔
بالآخر ان کے ریڈی ایشن آنکولوجسٹ نے سات ہفتوں پر مشتمل ریڈی ایشن تھراپی اور چھ ماہ کی ہارمون تھراپی کی تجویز دی۔
گزشتہ سال میری زندگی کے وہ کئی مہینے بالکل آسان نہیں تھے۔ اس کے بعد میں دو، تین ماہ بعد، اور پھر ہر چھ ماہ بعد PSA ٹیسٹ کروانے کے لیے جاتا رہا۔ گزشتہ سال کے آخر میں ہونے والا میرا آخری ٹیسٹ یہ ظاہر کرتا تھا کہ PSA قابلِ شناخت حد سے بھی کم تھا، یعنی اسے معلوم نہیں کیا جا سکا۔ اس لیے اب حالات بہتر نظر آ رہے ہیں۔
محترمہ کرو کا کہنا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے بعد مردوں کے لیے مختلف قسم کے جذبات کا سامنا کرنا عام بات ہے۔
صدمہ محسوس کرنا بہت عام بات ہے۔لوگوں کو ان تمام جذبات سے گزرنے کا موقع دینا اور انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ اس وقت جیسا محسوس کر رہے ہیں، وہ بالکل معمول کی بات ہے۔ یہ بہت عام ہے۔ لیکن جب انہیں کچھ معلومات مل جاتی ہیں تو حالات آسان ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور جب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کے علاج کا منصوبہ کیا ہے، تو علاج ان کی زندگی کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔
پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا مردوں کے لیے کیا معاونت دستیاب ہے؟
جن مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہو، ان کے لیے مختلف قسم کی معاونت دستیاب ہے۔ اس میں محترمہ کرو جیسے یورولوجی نرس پریکٹیشنرز بھی شامل ہیں، جو مریضوں کے سوالات کے جواب دے سکتے ہیں اور خصوصی طبی نگہداشت فراہم کر سکتے ہیں، جس میں پروسٹیٹ کینسر کی مسلسل نگرانی بھی شامل ہے۔
مسٹر موئل کے لیے ان کی اہلیہ اور خاندان کی حمایت انتہائی اہم تھی۔ اسی طرح مقامی پروسٹیٹ کینسر سپورٹ گروپ بھی ان کے لیے بہت اہم ثابت ہوا، جس کے قیام میں انہوں نے خود بھی مدد کی تھی۔
اس سے بہت بڑا فرق پڑا ہے کہ ہمارے پاس ایسے دوسرے مرد موجود ہیں جن سے ہم بات کر سکتے ہیں، اور جو اسی سفر سے گزر رہے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو مدد اور حوصلہ دیتے ہیں، اور یہ واقعی بہت زبردست بات ہے۔ اور ہمارے گروپ میں جو بعض مہمان مقرر آئے ہیں، وہ بھی شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے گروپ کے دوسرے ارکان کو جو مدد اور تعاون فراہم کیا ہے، وہ بھی واقعی قابلِ تعریف ہے۔
پروسٹیٹ کینسر اور اپنے قریب موجود سپورٹ گروپس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے آسٹریلین پروسٹیٹ سینٹر اور پروسٹیٹ کینسر فاؤنڈیشن آف آسٹریلیا کی ویب سائٹس ملاحظہ کریں۔





