SKIP TO MAIN CONTENT

آسٹریلیا میں انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے کیا ہیں؟

Booderee National Park. Credit - Alyssa Chandler.jpg
Booderee National Park at Jervis Bay on NSW South Coast. Credit: Alyssa Chandler

قومی پارکس، قدرتی محفوظ علاقے، سمندری حیات کے محفوظ علاقے اور مقامی آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے مختلف ماحول کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے لیے مختلف قوانین نافذ ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے کو دوسروں سے کیا چیز مختلف بناتی ہے، اور آپ یہ کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ وہاں آپ کا جانا خوش آئند ہے یا نہیں؟


تاریخِ اشاعت بجے

By Alyssa Chandler

پیش کار Afnan Malik

ذریعہ: SBS



Skip to podcast episode content

قومی پارکس، قدرتی محفوظ علاقے، سمندری حیات کے محفوظ علاقے اور مقامی آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے مختلف ماحول کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے لیے مختلف قوانین نافذ ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے کو دوسروں سے کیا چیز مختلف بناتی ہے، اور آپ یہ کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ وہاں آپ کا جانا خوش آئند ہے یا نہیں؟


Key Points

  • محفوظ علاقے وہ مقامات ہیں جہاں اہم زمین، پانی، پودوں، جانوروں اور ثقافتی اقدار کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
  • انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقوں کا انتظام روایتی نگہبان کرتے ہیں، اور اکثر حکومت اور ماحولیاتی تحفظ کی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری میں کام کرتے ہیں۔
  • محفوظ علاقے کا دورہ کرنے سے پہلے ہمیشہ وہاں کے قوانین اور ضوابط ضرور چیک کریں، کیونکہ بعض سرگرمیوں پر پابندی ہو سکتی ہے۔

قومی پارکس اور قدرتی محفوظ علاقے بنیادی طور پر زمین کا تحفظ کرتے ہیں، جبکہ سمندری محفوظ علاقے سمندری ماحول کی حفاظت کرتے ہیں۔ انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے زمین یا سمندری سرزمین دونوں کا تحفظ کر سکتے ہیں اور ان کا انتظام روایتی مالکان رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں۔

یہ تمام محفوظ علاقے ایسی سرزمین پر قائم ہیں جس کی فرسٹ نیشنز کے لوگوں نے دسیوں ہزار سال سے دیکھ بھال کی ہے۔

Professor Emma Lee OAM conducting ceremony at Tebrakunna Country for Timme’s Canoe. Credit - Ali Cinlar.JPG
Professor Emma Lee OAM conducting ceremony at Tebrakunna Country for Timme’s Canoe. Credit: Ali Cinlar

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ کیا ہے؟

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ، جسے مختصراً IPA بھی کہا جاتا ہے، زمین یا سمندری سرزمین کا ایسا علاقہ ہے جسے روایتی مالکان رضاکارانہ طور پر قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے منظم کرنے پر رضامند ہوتے ہیں۔

آسٹریلوی حکومت اور فرسٹ نیشنز کے گروپس نے مل کر IPA پروگرام تیار کیا، جو 1997 میں شروع ہوا۔ یہ پروگرام روایتی مالکان کو حیاتیاتی تنوع اور ثقافتی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی روایات اور سرزمین سے متعلق ذمہ داریاں جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

آسٹریلیا میں اس وقت:

  • 96 انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے موجود ہیں۔
  • 113 ملین ہیکٹر زمین انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقوں میں شامل ہے۔
  • 9.3 ملین ہیکٹر سمندری سرزمین انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقوں میں شامل ہے۔

مجموعی طور پر، انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے آسٹریلیا کے نیشنل ریزرو سسٹم کے 55 فیصد سے زیادہ حصے پر مشتمل ہیں، جو ملک کے تقریباً ایک چوتھائی رقبے کی حفاظت کرتا ہے۔

پروفیسر ایما لی OAM ٹراول وول وائے خاتون اور فیڈریشن یونیورسٹی میں ماہرِ تعلیم ہیں۔ انہیں آنٹی ایما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ فرسٹ نیشنز کے لوگ ہزاروں سال سے آسٹریلیا کی زمین اور پانیوں کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔

"ہم نے ہمیشہ سرزمین کی دیکھ بھال کا ایک نظام اپنایا ہے۔ یہ اصول بظاہر بہت سادہ لگتے ہیں، جیسے یہ یقینی بنانا کہ آپ اپنی ضرورت سے زیادہ نہ لیں اور آنے والی نسلوں کے لیے سرزمین کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑیں۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جنہوں نے دسیوں ہزار سال اور سینکڑوں نسلوں سے ہماری زندگیوں کی رہنمائی کی ہے۔"

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے دوسرے محفوظ علاقوں سے کیسے مختلف ہیں؟

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے اس لیے منفرد ہیں کیونکہ یہ روایتی نگہبانوں اور وفاقی حکومت کے درمیان رضاکارانہ معاہدوں کے تحت قائم کیے جاتے ہیں۔

تاہم، ان کا آغاز صرف روایتی نگہبان ہی کر سکتے ہیں۔

دوسرے محفوظ علاقوں، جیسے قومی پارکس، قدرتی محفوظ علاقے اور سمندری محفوظ علاقے، کے لیے زمین کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور خطوں کی حکومتوں پر ہوتی ہے۔

نجی زمین کے مالکان، جیسے کسان اور مویشی پالنے والے، اپنی جائیداد کی ملکیت برقرار رکھتے ہوئے رضاکارانہ تحفظ کے معاہدوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے محفوظ کی جانے والی اہل زمین نیشنل ریزرو سسٹم میں شامل ہو سکتی ہے۔

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقوں اور دیگر محفوظ علاقوں کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ ان علاقوں کے انتظام میں ثقافت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسان، ثقافت اور سرزمین ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

آنٹی ایما کہتی ہیں کہ یہ "محفوظ کر دو اور پھر چھوڑ دو" کے طریقۂ کار سے مختلف ہے۔ انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے لوگوں کو سرزمین کے بارے میں سیکھنے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں، جہاں روایتی مالکان رسائی کی اجازت دینے کا فیصلہ کریں۔

"ہم لوگوں کو یہ سمجھنے کا موقع دیتے ہیں کہ یہ آگ لگانے کا طریقہ بہت، بہت قدیم ہے، اور جب بھی آپ ٹھنڈی آگ سے جلائے گئے کسی حصے کو دیکھتے ہیں تو آپ ان ثقافتی روایات کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں جنہوں نے ہزاروں سال سے ہماری سرزمین کو سنبھالے رکھا ہے۔"

ایک انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ کسی دوسرے محفوظ علاقے، جیسے قومی پارک یا سمندری پارک، سے متصل یا اس کے اندر واقع ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں روایتی مالکان ان دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جن کے پاس اس علاقے سے متعلق قانونی حقوق یا انتظامی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے کیسے کام کرتے ہیں؟

ہر انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے کا ایک انتظامی منصوبہ ہوتا ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ روایتی مالکان اس علاقے کی ثقافتی اور ماحولیاتی اہمیت کی حفاظت کیسے کریں گے۔

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ قائم کرنے کے دو مراحل ہیں:

  • مشاورت: روایتی نگہبان، فرسٹ نیشنز کے گروپس، زمین کے مالکان، متعلقہ فریقوں اور ممکنہ شراکت داروں کے ساتھ بات چیت اور منصوبہ بندی کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ سرزمین کی نگہداشت کے لیے مقاصد اور حکمتِ عملیاں تیار کرتے ہیں۔
  • اختصاص: روایتی نگہبان فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا اس علاقے کو انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ قرار دیا جائے۔ وہ آسٹریلوی حکومت سے انتظامی منصوبے کی توثیق اور اس علاقے کو باضابطہ طور پر انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ تسلیم کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

کسی علاقے کو انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقہ قرار دینے سے اس سرزمین کی ملکیت، مقامی باشندوں کے زمین سے متعلق حقوق یا پہلے سے موجود قانونی حقوق تبدیل نہیں ہوتے۔

انتظامی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتا ہے:

  • ثقافتی اور مقدس مقامات کا تحفظ
  • روایتی طریقوں کے مطابق آگ لگانے کی تکنیکوں کا استعمال
  • خطرے سے دوچار انواع کی نگرانی
  • قدرتی مسکن کی بحالی
  • حیاتیاتی تنوع کے جائزے کرنا
  • سمندری کچرا ہٹانا
  • جڑی بوٹیوں اور جنگلی جانوروں کی افزائش پر قابو پانا
  • سیاحت اور سیاحوں کی آمدورفت کا انتظام
  • نئی نسلوں تک روایتی علم منتقل کرنا۔
Jess Abrahams ACF. Credit - Annette Ruzicka_MAPgroup.jpg
Jess Abrahams has worked in conservation for 30 years. Credit: Annette Ruzicka_MAPgroup

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے آسٹریلیا کے ماحول اور ثقافت کے لیے کیوں اہم ہیں؟

آسٹریلین کنزرویشن فاؤنڈیشن (ACF) کے قومی ماحولیاتی مہم کار جیس ابراہمز بتاتے ہیں کہ ماحول کو صحت مند رکھنے کے لیے محفوظ علاقے سب سے مؤثر طریقہ ہیں۔

"ہمارے قومی پارکس اور دیگر محفوظ علاقوں کا مقصد آسٹریلیا میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے مسکن اور قدرتی ماحول کی نمائندگی کرنے والے علاقوں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم آسٹریلیا میں موجود ہر طرح کے قدرتی ماحول کی مثالوں کو محفوظ رکھیں، تاکہ آنے والی نسلیں دیکھ سکیں کہ آسٹریلیا کیسا ہے اور کیسا نظر آتا ہے۔"

آسٹریلیا میں پودوں اور ممالیہ جانوروں کی 80 فیصد سے زیادہ اقسام، جبکہ پرندوں کی تقریباً 45 فیصد اقسام دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتیں۔

تاہم، آسٹریلیا کی حیاتیاتی تنوع پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور قومی سطح پر خطرے سے دوچار قرار دی گئی انواع کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ماہرِ تحفظِ ماحولیات پروفیسر جیمز واٹسن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی خطرے سے دوچار انواع اور معدومیت کے خطرے سے دوچار ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے محفوظ علاقے انتہائی اہم ہیں۔

"اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہ زمینیں اور سمندری علاقے ہیں جنہیں تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس لیے زمین اور نباتات کی صفائی کرنے والی بلڈوزر مشینوں کو ان علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ دیگر ایسی سرگرمیاں بھی محفوظ علاقے کی حدود میں ممنوع ہوتی ہیں جو قدرتی ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یوں یہ علاقے ایک طرح سے محفوظ پناہ گاہیں بن جاتے ہیں۔"

The grey range thick-billed grasswren. Credit - Lucy Coleman.jpg
The grey range thick-billed grasswren is endangered and is known from a small number of locations in far north-west New South Wales. Credit: Credit - Lucy Coleman. Supplied by James Watson.

انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے کا احترام کے ساتھ دورہ کیسے کریں؟

مسٹر ابراہمز کا کہنا ہے کہ فطرت کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آپ بہت سے آسان اقدامات کر سکتے ہیں:

  • رات کے وقت جانوروں کو گھر کے اندر رکھیں، خاص طور پر بلیوں کو۔
  • کچرے کو درست طریقے سے ری سائیکل کریں تاکہ پلاسٹک آبی گزرگاہوں میں نہ جائے۔
  • کسی ایسی کمیونٹی تنظیم کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کریں جو قریبی پارک، محفوظ علاقے یا قومی پارک کی دیکھ بھال کرتی ہو۔
  • ماحولیاتی مسائل اپنے مقامی رکنِ پارلیمنٹ کے علم میں لائیں۔

محفوظ علاقوں کو سمجھنے سے آپ ان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ فطرت کے ساتھ آسٹریلیا کے خصوصی تعلق کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔

آنٹی ایما کہتی ہیں:

"اگر ہم محفوظ علاقوں کو بحیثیت انسان اپنے مستقبل کی ضمانت سمجھیں تو ہم سب اپنے گھر کے صحن میں، یا اپارٹمنٹ کی بالکونی میں موجود اس چھوٹی سی عوامی جگہ پر بھی چھوٹے محفوظ علاقے بنا سکتے ہیں۔

"ہمیں بس اچھے انسان بننے کی ضرورت ہے۔ محفوظ علاقے ہمیں یہی یاد دلاتے ہیں، اور انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقے اس پیغام کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔"

لہٰذا، اگلی بار جب آپ کسی محفوظ علاقے کا دورہ کریں تو معلوم کریں کہ آپ کس روایتی سرزمین پر موجود ہیں، مقامی ہدایات پر عمل کریں اور روایتی نگہبانوں کے فیصلوں کا احترام کریں۔

سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت چند اہم باتیں:

  • کسی سرکاری نقشے یا ویب سائٹ سے تصدیق کریں کہ اس علاقے کا انتظام کون کرتا ہے اور آیا وہاں سیاحوں کو جانے کی اجازت ہے۔ آسٹریلوی حکومت انڈجنس آبادی کے زیرِ تحفظ علاقوں کا قومی نقشہ شائع کرتی ہے، جس کے ذریعے آپ ان علاقوں کی شناخت کر سکتے ہیں۔
  • رسائی، اجازت ناموں، عارضی بندش اور ثقافتی لحاظ سے حساس مقامات کے بارے میں متعلقہ روایتی مالکان کی تنظیم، محفوظ علاقے کے منتظم، لینڈ کونسل یا پارک انتظامیہ سے معلومات حاصل کریں۔
  • کچھ محفوظ علاقوں میں نشانات موجود ہو سکتے ہیں، لیکن ہر جگہ نشانات نہیں ہوتے۔ صرف نشانات دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔

اور یاد رکھیں، آپ جس راستے پر چلتے ہیں، جس ساحل پر جاتے ہیں اور جس جنگل کو دریافت کرتے ہیں، وہ سب ایک بہت بڑی چیز کا حصہ ہیں۔

یہ آسٹریلیا کے قدرتی اور زندہ ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔

آسٹریلیا ایکسپلینڈ پوڈکاسٹ کو سبسکرائب یا فالو کریں تاکہ آسٹریلیا میں اپنی نئی زندگی شروع کرنے اور یہاں آباد ہونے کے حوالے سے مزید مفید معلومات اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال یا موضوع ہے جس پر آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟ ای میل کریں: australiaexplained@sbs.com.au

______________
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے , اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے SBS Audio کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ ایپل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ پوڈکاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم کا انتخاب کیجئے:  Spotify Podcast , Apple Podcasts


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now