صاف توانائی کا نیا سفر — آسٹریلیا کے ریئر ارتھ منرلز پر ڈاکٹر چیرنتن سے گفتگو

mining

Kalgoorlie Consolidated Gold Mines (KCGM) Superpit gold mine operations on the outskirts of Kalgoorlie. Source: AAP / AAP Image/ Kim Christian

ریئر ارتھ منرلز، یعنی نایاب معدنیات مستقبل کی صاف اور پائیدار توانائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر وِنڈ ٹربائنز، سولر پینلز، اور جدید ٹیکنالوجی تک، سب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے — یہ معدنیات کہاں سے آتی ہیں؟ آسٹریلیا اس دوڑ میں کہاں کھڑا ہے؟ اور حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے نئے سمجھوتے کا آسٹریلیا کے وسائل اور عالمی توانائی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟


انہی اہم سوالات پر روشنی ڈالنے کے لیے ہمارے ساتھ موجود ہیں آسٹریلیا کی ممتاز سائنسی ادارے سی ایس آئی آر او (CSIRO) سے وابستہ معروف سائنسدان ڈاکٹر چیرنتن پاروئی — جو ریئر ارتھ منرلز اور صاف توانائی کے شعبے میں اہم تحقیق کر رہے ہیں۔ آئیے، جانتے ہیں ڈاکٹر پاروئی سے کہ ریئر ارتھ منرلز صرف معدنیات نہیں، بلکہ مستقبل کی معیشت، توانائی اور ماحولیات کی کنجی کیسے بن چکے ہیں۔

Chirantan Parui
Chirantan Parui Credit: Chirantan Parui

جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now