مہاجرین کو سیاسی قربانی بنانا: دنیا اسلم خان کے بیس سالہ کیرئیر کا آنکھوں دیکھا حال

Duniya Aslam Khan with a Afghan refugees

Duniya Aslam Khan with a group of Afghan refugee children Credit: Duniya Aslam Khan

آسٹریلیا کا شمار دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں ہوتا ہے جو ہجرت کی کہانیوں سے بنا ہے اور جہاں مختلف زبانیں، مختلف ثقافتیں، اور دنیا بھر سے آئے لوگوں نے اسے ایک خاص پہچان دی ہے۔ آج کل مہاجرت سے متعلق شور و غوغا کی فضا میں ہم ایک مشکل سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو رہے ہیں، تو ہم یہاں بیٹھ کر اس سے جڑی تلخ حقیقتوں کو کیسے سمجھیں؟


آج کی گفتگو دنیا اسلم خان کے تجربات پر مبنی ہے، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ساتھ بیس سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے ان لوگوں کی زندگیوں کو قریب سے دیکھا ہے، جنہیں جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور بحرانوں نے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ وہ ہمیں بتارہی ہیں کہ دنیا میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کہاں تک پہنچ چکی ہے۔

دنیا اسلم خان کے تجربات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہجرت صرف ایک عالمی بحران نہیں — یہ ایک انسانی کہانی ہے، جو ہم سب سے جڑی ہوئی ہے۔

____________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now