مقست شاہد کے مطابق آسٹریلیا میں ہر کامیابی صرف میرٹ کی بنیاد پر ملتی ہے، جہاں کسی بھی پس منظر سے قطع نظر سب کو برابر کے مواقع حاصل ہیں۔ مقست کے والد شاہد ملک کہتے ہیں کہ میرے لیے سب سے بڑا لمحہ وہ ہوگا جب میں اپنے بیٹے کو آسٹریلیا کی قومی ٹیم میں کھیلتے ہوئے دیکھوں گا، جب وہ اپنے سینے پر آسٹریلیا کا پرچم سجائے میدان میں اترے گا- مزید سماعت کیجیے اس پوڈ کاسٹ میں۔
مقست شاہد کا کہنا ہے کہ ان کا کھیلوں کا سفر کرکٹ سے شروع ہوا، لیکن وقت کے ساتھ بیس بال سے لگاؤ بڑھتا گیا۔ ان کے مطابق کرکٹ کی ابتدائی پریکٹس نے انہیں بیس بال میں بہت مدد دی، جس کی بدولت انہوں نے تیزی سے اس کھیل میں ترقی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی عمر اور لیول سے بڑھ کر محنت کی اور صرف لوکل نہیں بلکہ کلب، اسٹیٹ اور نیشنل لیول پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مختلف کامیابیوں کے باوجود ان کا ہدف ہمیشہ یہی رہا کہ وہ پروفیشنل اور انٹرنیشنل معیار کے مطابق کھیلیں۔ مقست کے مطابق آسٹریلیا میں انہیں ہر جگہ صرف میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ملٹی کلچرل معاشرے میں کسی بھی شخص کو اس کے پس منظر کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اس کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ان کی فیملی کا تعلق بیرون ملک سے تھا، کیونکہ ہر جگہ انہیں یکساں مواقع اور سپورٹ ملی۔
مقست کے والد شاہد ملک کہتے ہیں کہ انہیں ابتدا میں بیس بال کھیل کی تکنیکی سمجھ نہیں تھی، لیکن وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھے۔
شاہد ملک کے مطابق آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف کمیونٹیز کے لوگ ساتھ رہتے ہیں اور کھیلوں سمیت ہر شعبے میں سب کو یکساں مواقع ملتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی بات اس ملک کو خاص بناتی ہے۔




