آج کے والدین خود ایک “کتابوں کے دور” سے آئے ہیں، جہاں تفریح کا مطلب باہر کھیلنا اور پڑھنا تھا۔ جبکہ ان کے بچے “ڈیجیٹل دور” میں ہیں، جہاں ایک کلک پر پوری دنیا موجود ہے۔ تو کیا مسئلہ صرف گیمز ہیں؟ یا ہماری سوچ میں موجود کچھ stereotypes بھی ہیں؟
آسٹریلیا جیسے ملٹی کلچرل معاشرے میں، بچے نہ صرف اسکرینز سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی سیکھتے ہیں احترام، diversity، اور ایک ساتھ جینے کا ہنر۔ اگر والدین اپنے “کتابوں کے زمانے” کے تجربے کو بچوں کے “ڈیجیٹل دور” کے ساتھ جوڑ دیں تو وہ ایک ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو نہ صرف ٹیکنالوجی میں آگے ہو، بلکہ انسانیت میں بھی۔
____
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے




