کتابوں کے زمانے کے والدین، اسکرین کے دور کے بچے : کیا ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں؟

Nabiha Atique with her daughers

Nabiha Atique with her daughters Credit: Nabiha Atique

ایک طرف والدینکا اپنا بچپن — کتابوں، کھیلوں اور سادہ زندگی کا زمانہ اور دوسری طرف ان کے بچے اسکرینز، گیمز اور ڈیجیٹل دنیا میں پلتے ہوئے۔ کیا یہ فرق ایک خلا پیدا کر رہا ہے؟ یا یہ ایک موقع ہے — بہتر سمجھ، بہتر تربیت، اور بہتر مستقبل کا؟ آج ہم اسی سوال کا جواب ڈھونڈیں گے میلبورن کی رہائشی زہرا عتیق کی کہانی کے ذریعے۔


آج کے والدین خود ایک “کتابوں کے دور” سے آئے ہیں، جہاں تفریح کا مطلب باہر کھیلنا اور پڑھنا تھا۔ جبکہ ان کے بچے “ڈیجیٹل دور” میں ہیں، جہاں ایک کلک پر پوری دنیا موجود ہے۔ تو کیا مسئلہ صرف گیمز ہیں؟ یا ہماری سوچ میں موجود کچھ stereotypes بھی ہیں؟

آسٹریلیا جیسے ملٹی کلچرل معاشرے میں، بچے نہ صرف اسکرینز سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی سیکھتے ہیں احترام، diversity، اور ایک ساتھ جینے کا ہنر۔ اگر والدین اپنے “کتابوں کے زمانے” کے تجربے کو بچوں کے “ڈیجیٹل دور” کے ساتھ جوڑ دیں تو وہ ایک ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو نہ صرف ٹیکنالوجی میں آگے ہو، بلکہ انسانیت میں بھی۔

____
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now