میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں جاری پاکستان اور آسٹریلیاکے درمیان باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ 317 رنز کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن مشکلات کاشکار ہے۔
باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ میں فاسٹ بولر میر حمزہ کی شاندار باؤلنگ کے چرچے ہیں شائقین کرکٹر سوشل میڈیا پر میر حمزہ کو خوب داد دے رہے ہیں تیسرے روز کے کھیل کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر حمزہ کا کہنا تھا کہ میلبرن میں کھیلنا میرا خواب تھا اپنی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے معمول کے مطابق باؤلنگ کر رہا ہوں۔ یہاں کی پچ فاسٹ بولرز کو مدد فراہم کر رہی ہے ٹریوس ہیڈ کو آؤٹ کرنا میرے لئے یادگار رہے گا۔
دوسری جانب شائقین کرکٹ نے پاکستان ٹیم کی جانب سے کیچز ڈراپ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہتے ہیں اگر کیچز نہ چھوڑتے تو پاکستان آسانی سے میچ جیت سکتا تھا امید کرتے ہیں پاکستان میچ جیت کر تاریخ بنائے گا پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا آتی ہے تو بہت خوشی ہوتی ہے ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیوس کپ ٹائی کے مستقبل کا فیصلہ ہوگیا ہے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کے آزاد ٹربیونل نے فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کی اپیل مسترد کر دی ہے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے ڈیوس کپ ٹائی پاکستان میں ہی کروانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے اپنےفیصلے میں کہا پاکستان میں ڈیوس کپ نہ کھیلنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے پاکستان میں سیکیورٹی صورت حال ایسی نہیں کہ میچ نہ ہوسکیں انڈیا،پاکستان میں عام انتخابات اورسکیورٹی کو بنیاد بناکرڈیوس کپ نیوٹرل وینیو پر کھیلناچاہتا تھا پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیوس کپ ٹائی 4 فروری کو کھیلے جائے گا۔

ٹینس اسٹار اعصام الحق کا کہنا تھا کہ ہماری کرکٹ ٹیم کا بالکل درست فیصلہ تھا جو ورلڈ کپ کھیلنے گئے تھے، کھیل کو مذہب اور سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ ہم دونوں سپورٹس کھیلنے والی قومیں ہیں اگر پاکستان کرکٹ ٹیم انڈیا جا کر کھیل سکتی ہے تو بھارتی کرکٹ اور ٹینس ٹیمز کیوں نہیں آ سکتے۔ پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی آ رہی ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ بھارت کو بھی پاکستان آنا چاہیے لیکن ایسا ہوگا نہیں جو ان کا ایک غلط فیصلہ ہوگا کیونکہ پاکستان کی مہمان نوازی پوری دنیا میں مشہور ہے ابھی پاکستان ٹینس فیڈریشن نے جو مقابلے کروائے ہیں اس میں یورپین ممالک کی ٹیمیں اور انڈونیشیا کی ٹیم بھی کھیل کر گئی ہے اور اس طرح کی ٹائز پاکستان میں ہونی چاہیے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا ایک پرامن ملک کا امیج جائے گا۔
پاکستان، پاکستان ٹینس اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی بہت بڑی جیت ہے، 2019 میں ہمیں کھیلنے کے لیے نیوٹرل وینیو پر بھیجا گیا، میں بہت خوش اور پرجوش ہوں اور ٹربیونل نے بھی یہی کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ انڈیا پاکستان نا آئے،بہت سے بھارتی پاکستان آ بھی چکے ہیں جن میں بی سی سی آئی کے پریذیڈنٹ، وائس پریزیڈنٹ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ آئے تھے اور ان کو کوئی سیکورٹی تھریٹ نہیں تھا۔
(رپورٹ: انس سعید)




