غزہ میں دو سال کی جنگ کے بعد اب احتیاط کے ساتھ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل کی غزہ پر جنگ فوراً رک سکتی ہے۔
مصر میں اسرائیل اور حماس نے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر پیش رفت کے لیے بالواسطہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ اس مرحلے میں جنگ بندی شامل ہے تاکہ حماس کے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کیا جا سکے۔
مزید جانئے

اسرائیل فلسطین تنازعہ: ایک مختصر تاریخ
امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔
حماس نے اپنے چیف مذاکرات کار کے طور پر خلیل الحیہ کو مقرر کیا ہے، جبکہ اسرائیلی وفد کی قیادت رون ڈرمر کر رہے ہیں۔
اب بھی کئی اہم اختلافات موجود ہیں، جن میں حماس کا غیر مسلح کیا جانا اور دو ریاستی حل کا مسئلہ شامل ہے — یعنی اسرائیل کے ساتھ ایک علیحدہ فلسطینی ریاست کا قیام۔
صدر ٹرمپ پرامید ہیں۔






