حکومت نے معقول وجوہات پر بے دخلی کے لیے ایک "قومی یکساں پالیسی" بنانے، کرایہ میں اضافے کو سال میں ایک بار محدود کرنے، کم از کم کرایہ کے معیار کو مرحلہ وار نافذ کرنے اور کرایہ داروں کے تحفظات کو بہتر بنانے کا عزم کیا تھا۔لیکن دو سالہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ترقی غیر یکساں رہی ہے، اور حقوق زیادہ تر خطے کے حساب سے مختلف ہیں۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف رینٹرز آرگنائزیشنز اور نیشنل شیلٹرکی جاری کردہ رپورٹ میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے 2023 میں کیے گئے کرایہ داروں کے حقوق کو "ہم آہنگ اور مضبوط" بنانے کے اپنے وعدے پر عمل درآمد کیا ہے یا نہیں،
رپورٹ میں ہر ریاست اور علاقے کو نو اصلاحات کی بنیاد پر درجہ دیا گیا، کرایہ داروں کے حقوق پر وکٹوریا سب سے آگے ہے، جس نے سات اصلاحات اپنائی ہیں اور کئی اصلاحات پر توقعات سے بڑھ کر کام کیا ہے، جن میں توانائی کے نئے مؤثر معیاربھی شامل ہیں مگر ۔ نیو ساوتھ ویلز اور اے سی ٹی وکٹوریہ سے پیچھے ہیں، جنہوں نے بالترتیب پانچ اور چھ اصلاحات اپنائی ہیں۔
دوسری طرف، نادرن ٹیریٹری نے پانچ شعبوں میں کوئی پیشرفت نہیں کی اور وہاں کرایہ ہر چھ ماہ میں بڑھ سکتا ہے۔ ویسٹرن آسٹریلیا بھی پیچھے ہے، جہاں چار شعبوں میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، اگرچہ تین اصلاحات اپنائی گئی ہیں۔ تسمانیا میں بھی دو شعبے ہیں جہاں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور کچھ اصلاحات جزوی طور پر نافذ کی گئی ہیں۔ ساؤتھ آسٹریلیا اور کوئینزلینڈ درمیانی سطح پر ہیں، جنہوں نے آدھی سے زیادہ اصلاحات اپنائی ہیں مگر اب بھی خالی جگہیں باقی ہیں۔
یہ پوڈ کاسٹ SBS news کے انگریزی آرٹیکل پر مبنی ہے ۔ مکمل آرٹیکل پڑھئے ۔






