گذشتہ چند سالوں سے پاکستان سیاحت کے شوقین افراد کے لئے ایک اچھی منزل ثابت ہورہا ہے ۔ نہ صرف مختلف بین الاقوامی شہرت یافتہ ویلاگر اور بلاگرز پاکستان کا رخ کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کا مثبت تاثر مزید سیاحوں کو بھی اپنی جانب راغب کرہا ہے ۔ سال 2020 میں ایک بین الاقوامی سفری پورٹل "کونڈے نسٹ " نے پاکستان کوسیاحت کے لئے بہترین منزل قرار دیا۔

ایسے وقت میں سڈنی کی سڑکوں پر پاکستانی سیاحت اور ثقافت سے آراستہ بسیں نہ صرف آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں کو وطن کی یاد دلا رہی ہیں بلکہ آسٹریلیا کے مقامی افراد کو بھی اپنی طرف کھینچ رہی ہیں ۔ سماجی رابطوں کی کئی ویب سائیٹس اور مختلف سوشل میڈیا گروپس پر بھی ان بسوں کی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو پاکستان کے مشہور سیاحتی مقامات کی تصاویر سے مزین ہیں ۔ سڈنی کی سڑکوں پر دوڑتی بھاگتی ان بسوں پر پاکستانی سیاحتی مقامات اور مشہور عمارات کی تصویریں پینٹ کروانے کا قدم اٹھایا ہے نادر حافظ نے جو پیشیے کے لحاظ سے ایک ماہر نفسیات ہیں ۔

نادر حافظ کے ہمراہ دیگر مقامی کاروباری حلقوں نے اس مہم میں اپنا حصہ ڈالا ہے ، جس کا مقصد پاکستان کے مثبت رخ کو دنیا کے سامنے لانا اور پاکستان میں سیاحت کو مزید فروغ دینا ہے ۔ نادر حافظ کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے وہ آسٹریلیا کے سیاحوں کو پاکستان کی جانب راغب کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ خیال ان کے ذہن میں کیسے آیا اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک "بیگ پیکر سوسائیٹی" کی جانب سے پاکستان کو بہترین سیاحتی مقام قرار دئیے جانے کے بعد انہوں نے آسٹریلیا میں بھی پاکستان کی سیاحت کی ترویج کا فیصلہ کیا ۔
کووڈ 19 کی وجہ سے بین الاقوامی سفری پابندیوں اور سفر کے لئے مشکل حالات کے باوجود سیاحت کے فروغ اور سفر کی جانب راغب کرنے اشتہارات کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے نادر حافظ نے کہا کہ اس مہم کو ایسے وقت میں مشتہر کرتے ہوئے وہ چاہتے ہیں کہ ایک طرف پاکستان کا اچھا اور مثبت چہرہ بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کیا جائے تو دوسری طرف جب عالمی حالات بہتر ہوں اور زندگی معمول پر آجائے تو سیاحوں کے قدم پاکستان کی جانب بلا جھجک اٹھیں ۔

نادر حافظ نے مزید کہا کہ پاکستان کے بہتریں اور خوبصورت ترین سیاحتی مقامات ابھی لوگوں کی نظروں میں نہیں آئے ہیں ۔ ان مقامات کو مشتہر کرنے کے لئے ٹرانزٹ بسوں کا استعمال ، زیادہ افراد تک رسائی اور انوکھی اشتہاری مہم کی وجہ سے بہت اچھا لگا ۔ اس مہم میں چار پبلک بسوں کا استعمال کیا گیا ہے جن پر آٹھ ہفتوں سے بارہ ہفتوں تک یہ اشتہارات مزین رہیں گے ۔ ان اشتہارات میں خصوصی طور پر پاکستان کے معروف ٹرک آرٹ اور اردو جملوں کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ نادر حافظ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں آسٹریلیا کے دیگر شہروں میں بھی اس قسم کی اشتہاری مہموں کے ذریعے پاکستانی ثقافت و سیاحت کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں




