یہ روایت گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی کی پہچان بن گئی ہے اور بڑی عید کے موقع مخلتف ریستوران یہ آفر شہریوں کیلیے پیش کرتے ہیں جس میں معمولی معاوضے کے بدلے میں شہریوں کو قربانی کے گوشت سے انواع و اقسام کے کھانے بنا کر دیئے جاتے ہیں۔
اس بار بقر عید پر کراچی کی بڑی فوڈ اسٹریٹس پر شہریوں کیلیے کیا آفرز لگائی گئی ہیں اور کون کون سے ذائقہ دار، معیاری ، چٹخارے دار اور مسالے دار کھانے بنائے جارہے ہیں آئیے آپ کو ان فوڈ اسٹریٹس میں لیے چلتے ہیں۔
سب سے پہلے کراچی کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی مشہور فوڈ اسٹریٹ برنس روڈ پر واقعے ایک ریستوران پر پہنچے تو مزیدار کھانوں کی خوشبو اور اُن سے اٹھنے والے دھویں نے تو جیسے بھوک ہی بڑھا دی ہو، یہاں ایک طرف سجی بن رہی تھی تو دوسری جانب اسٹیم روسٹ تو ساتھ ہی کڑاہی کی مہک بھی فوڈ اسٹریٹ میں پھیل رہی تھی، ریستوران کے مالک جو کہ آرڈز زیادہ ہونے کے باعث انتہائی مصروف دکھائی دے رہے تھے ہماری درخواست ہر کچھ دیر بات کیلیے تیار ہوگئے۔

ریستوران مالک کے مطابق یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور کراچی کے شہریوں میں قربانی کے گوشت کو فوڈ سینٹرز سے بنوانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، ریستوان مالک کے مطابق وہ بھی شہریوں کی ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے سجی، کٹا کٹ، اسٹیم روسٹ سمیت متعدد کھانے بنا کر شہریوں کو پیش کر رہے ہیں۔
یہاں آئے کچھ شہریوں سے ہم نے پوچھا کہ کھانا گھر پر بنانے کے بجائے وہ ریستوران آنے کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ قربانی اور گھر پر موجود مہمانوں کے باعث یہاں سے کھانا بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ریستوران کا کھانا ماہر افراد بناتے ہیں جس سے اس کے ذائقے میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔
برنس روڈ کی اس فوڈ اسٹریٹ پر قائم بیشمار ریستوران میں شہریوں کا رش لگا ہوا ہے ۔ تقریبا ہر ریستوران میں اسی طرح کی آفرز کی جارہی ہیں۔

کراچی کی ایک اور بڑی فوڈ اسٹریٹ بہادرآباد کے علاقے دھورا جی میں قائم ہے ویسے یو یہاں کی آئس کریم اور گولا گنڈا ملک بھر میں مشہور ہے لیکن اب اس فوڈ اسٹریٹ میں دیگر پکوانوں کے بھی ریستوران کھل رہے ہیں۔ ایک پکوان سینٹر کے مالک احمد علی کے مطابق عید قرباں پر شہریوں کا رجحان بنے بنائے کھانوں کے بجائے قربانی کے گوشت سے اپنی پسند کا کھانا بنوانے پر زیادہ ہوتا ہے، اسی لیے وہ عید سے کچھ روز قبل ہی اپنی تیاری شروع کر دیتے ہیں، احمد کراچی کا بہترین قورمہ ، بریانی اور کڑاہی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس پکوان سینٹر پر موجود ایک شہری نے ہمیں بتایا کہ وہ بھی یہاں گھر والوں کی پُرزور فرمائش پر بریانی بنوانے آئے ہیں۔
یہ سلسلہ یہاں رُکتا نہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے نارتھ کراچی کے ایک فوڈ سیںٹر کا جسے امتصال احمد اپنی محنت سے چلا رہے ہیں، امتصال احمد بھی عید قرباں پر شہریوں کی فرمائش ، خواہش اور ٹِیسٹ کو دیکھتے ہوئے اپنے کھانے بناتے ہیں۔

ایس بی ایس اردو سے گفتگو کرتے ہوئے امتصال احمد نے بتایا کہ ان کا خاندان 40 سال سے زائد عرصے سے عید قربان پر شہریوں کوان کی قربانی کے گوشت سے مزیدار اور لذیذ کھانے بنا کر دے رہے ہیں، امتصال کے مطابق ان کے مصالحے شہریوں کو بار بار ان کے فوڈ سینٹڑر آنے پر مجبور کرتے ہیں، امتصال کہتے ہیں ان کے پاس آنے والے زیادہ تر آرڈز ملائی بوٹی، حیدرآبادی بریانی، سیخ کباب، تکہ اور قورمے کے ہوتے ہیں۔
فوڈ سینٹرپر آنے والی ایک خاتون بختاور ریاض سے ہم نے پوچھا کہ بڑی عید پر گھر کے کھانے کے بجائے یہاں کا کھانا کیوں بنوا رہی ہیں جس پر انھوں نے مؤقف اپنایا کہ گھر کے کھانوں اور ریستوران کے کھانوں کے ذائقے اور مصالحوں میں فرق ہوتا ہے ۔ عید کا خاص موقع بھی ہے مہمان بھی گھر پر ہوں تو قربانی کے گوشت سے باہر کا کھانا ایک بہترین آپشن ہوتا ہے۔
اب ہمارے سفر کی آخری منزل بہادرآباد کی فوڈ اسٹریٹ تھی جس کے قریب پہنچتے ہی محسوس ہو گیا تھا کہ آج یہاں کچھ خاص بنایا جارہا ہے ہر طرف کھانا، شہریوں کا رش اور ریستورانوں کے ملازمین کو سر کھجانے کی فرصت نہیں۔ یہاں بھی کہیں کباب ، تو ساتھ ہی کڑاہی، بریانی ، بار بی کیو سمیت انواع و اقسام کے کھانے بنائے جا رہے تھے ۔
یہاں پر گھر والوں کی فرمائش پر قربانی کا گوشت سے اسٹیم روسٹ بنوانے کیلیےآنے والے ایک شہری روحان نے ہمیں بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ سے چھ سال سے ہر بڑی عید پر باہر سے مختلف پکوان بنوا کر گھر والوں کیلیے لے جاتے ہیں ۔ روحان کے مطابق اس خاص موقع پر خواتین گھر کے کام کر کے تھک جاتی ہیں ، ایسے میں ان کی تھکاؤٹ کو دیکھتے ہوئے باہر سے کھانا بنوا لیتے ہیں جس سے ان پر زیادہ بوجھ بھی نہیں پڑتا اور ایک بہترین زائقے دار کھانا بھی مل جاتا ہے۔
(رپورٹ: احسان خان)







