’اڑان‘ کے نام سے پیش کئے گئے اس پروگرام میں وہ افراد شامل تھی جو جنوب ایشیائی ثقافت کے فروغ کے ساتھ مختلف کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے خواہاں تھے ۔
ابھیشیک ترپاٹھی نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ اگرچہ ایک ایسی نشست کا اہتمام کرنے کی خواہش تو عرصے سے موجود تھی لیکن امید نہیں تھی کہ سننے والوں کی جانب سے اتنا اچھا رسپانس بھی دیکھنے کو ملے گا۔

ابھیشیک کا مزید کہنا تھا کہ اس مرتبہ لوگوں کی جانب سے اتنے اچھے رسپانس نے ہمت میں اضافہ کیا ہے ساتھ ہی جو کچھ چھوٹی موٹی کمی رہ گئی اس کو آئندہ پورا کرنے کی کوشش کی جائےگی
سدرہ سرمد جو ایک داستان گو ہیں کہتی ہیں کہ ان کے ہر کردار میں ان کی جھلک موجود ہے ۔

سدرہ کہتی ہیں کہ میلبرن آنے پر انہیں لاہور کی یاد آئی اور جیسے آسٹریلینز اپنی زمین سے جڑے ہیں وہ بھی کوشش کرتی ہیں کہ زمین سے جڑ کر رہیں۔

سدرہ اور ابھیشیک دونوں کا ماننا ہے کہ آج کے جدید اور تیز رفتار دور میں بھی کہانی سنانا اور آنے والوں کو مبہوت کرکے سحر میں باندھنا ممکن ہے اگر داستان گو اپنی کہانی سے انصاف کرے








