آمنہ ارشاد ایک پاکستانی نژاد مصور اور فیشن ڈیزائنر ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فن کو دیواروں کی زینت بننے سے کہیں زیادہ آگے بڑھتا دیکھنے کی خواہاں ہیں ، Dress to Impress کے نام سے جاری ان کی فیشن ایگزیبشن میں کیا منفرد ہے سنئے ایس بی ایس اردو سے ان کی خصوصی گفتگو میں ۔
گذشتہ پچیس سال سے آسٹریلیا کی رہائشی آمنہ ارشاد کہتی ہیں کہ ملبوسات کو ایک نئی طرز سے متعارف کروانے میں ان کی دس سال کی محنت ہے۔ ا
آمنہ ارشاد نے 3 جولائی سے 27 جولائی کے درمیان ہونے والے اپنے فیشن ایگزیبشن میں ’انٹر کونٹینٹل ملبوسات‘ متعارف کروائے ہیں جو مغربی ملبوسات اور مشرقی انداز کا خوبصورت امتزاج ہیں۔ آمنہ کے مطابق اس سوچ کے پیچھے یہ خیال کار فرما ہے کہ رنگ و نسل اور ثقافت سے قطع نظر یہ ڈیزائن ہر ایک کے لئے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ اہگزیبشن میں موجود ہر لباس انہوں ے ذاتی طور پر تیار کیا ہے جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان ملبوسات کے ذریعے آسٹریلیا میں مشرقی ملبوسات پیش کرنے کے ساتھ ہی وہ پاکستان میں موجود ہنر مند خواتین کو بین الاقوامی طور پر متعارف کروانا چاہتی ہیں


