اگر گھر کے اندر کوئی حادثہ درپیش آجائے ، توڑ پھوڑ ہوجائے یا قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑے تو گھر کے انشورنس کی وجہ سے مالی نقصان سے بچنا ممکن ہے لیکن وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے آپ کا انشورنس کلیم تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے یا رد کیا جا سکتا ہے سنئے اس پوڈکاسٹ میں ۔
آسٹریلیا میں گھروں کا بیمہ مالکان کو کسی نقصان کی صورت میں مالی نقصان سے بچا سکتا ہے لیکن بہزاد اسلم جو فن گارڈ فانئنس اینڈ انشورنس کے پرنسپل بروکر ہیں کہتے ہیں کہ اپنا بیمہ لیتے ہوئے سب سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کون سا انشورنس کور لے رہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ انشورنس کور لیتے ہوئے بنیادی غلطی ’پروڈکٹ‘ کو سمجھنے میں ہو جاتی ہے جو بعد میں آپ کے انشورنس کلیم کے رد ہونے یا تاخیر سے منظور ہونے کا باعچ بن سکتی ہے
انہوں نے بتایا کہ بنیادی انشورنس میں گھر کا سامان بشمول گھر کے فرش پر موجود کارپٹ کے ، کچھ شامل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے اضافی ’کنٹینٹ انشورنس‘ کی ضرورت ہوتی ہے
تاہم انہوں نے بتایا کہ گھر کے سامان کی انشورنس لیتے ہوئے بھی یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ آپ اپنی چیزوں کی قیمت کم نہ لگوا دیں ۔

آسٹریلین فانئنس کملینٹ اتھارٹی (AFCA) کی ترجمان ایما کرٹس کہتی ہیں کہ ایفکا ایک مفت سروس ہے جو انشورنس سے متعلق معاملات کے حل میں معاونت کرتی ہے ۔
ان کے مطابق ادارے کو جو شکایات موصول ہوتی ہیں ان میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جن کے کلیم میں تاخیر ہوئی ہے یا کسی وجہ سے کلیم رد کئے گئے ہیں
ایما کا کہنا ہے اس شکایات کے حل کے لئے ایفکا کا مشورہ یہ کہ پہلے اپنے بیمہ ادارے سے رابطہ کریں اور تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں ایفکا سے رجوع کریں




