- ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ترجمان نے کہا کہ نشانہ بننے والا جہاز چین سے ایران جا رہا تھا، اور ایران جلد اس اقدام کا جواب دے گا، جسے انہوں نے امریکہ کی جانب سے "مسلح بحری قزاقی" قرار دیا۔ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب بحری ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار جہاز کو زبردستی اپنے قبضے میں لیا۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجِ عمان میں موجود امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنا کر اسے روک دیا۔ اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار پیر کے روز ایران کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے پاکستان جائیں گے۔
- نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس منس نے احتجاجی مظاہروں سے متعلق اپنی حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا ہے، یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عدالت نے حال ہی میں انسدادِ احتجاج قوانین کے اہم حصوں کو کالعدم قرار دیا۔ نیو ساؤتھ ویلز کی سپریم کورٹ کے کورٹ آف اپیل نے گزشتہ ہفتے قرار دیا کہ یہ قوانین سیاسی اظہارِ رائے پر غیر ضروری پابندی عائد کرتے ہیں۔ یہ قوانین 22 دسمبر 2025 کو متعارف کروائے گئے تھے، اور بعد میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دورے کے دوران ہونے والے مظاہروں میں استعمال کیے گئے، جہاں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ آج گفتگو کرتے ہوئے کرس منس کا کہنا تھا کہ پولیس نے عوامی تحفظ برقرار رکھنے کے لیے پہلے سے موجود اختیارات، بشمول بڑے ایونٹس کے اعلانات، کا سہارا لیا۔
- تازہ ترین عوامی جائزوں کے مطابق ون نیشن پارٹی کی مقبولیت میں سال کے آغاز کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ اخبار "دی آسٹریلین" کے لیے کیے گئے تازہ نیو اسپول سروے میں پولین ہینسن کی جماعت کے ووٹوں میں دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی حمایت 24 فیصد رہ گئی ہے۔ ریزولو نامی ادارے کے ایک اور سروے میں بھی اسی طرح کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اس کے باوجود ون نیشن کی مقبولیت اب بھی کولیشن سے زیادہ ہے، جسے 21 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔ جبکہ لیبر پارٹی بدستور 31 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے۔ انتھونی البانیزی اب بھی پسندیدہ وزیرِاعظم قرار دیے جا رہے ہیں۔
- وفاقی وزیرِ خزانہ جم چالمرز واشنگٹن میں جی ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس پہنچ گئے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ مئی کے بجٹ کی حتمی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایک اہم موقع تھا جہاں انہوں نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی قیادت میں ہونے والی گفتگو میں حصہ لیا، اور جنوبی کوریا، جاپان، چین، برطانیہ اور نیوزی لینڈ سمیت اہم شراکت داروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ بجٹ میں عالمی حالات کو مدنظر رکھا جا سکے۔ اجلاس میں ایندھن کی قیمتوں، معاشی پیش گوئیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے تناظر میں عالمی معیشت پر اثرات پر خاص توجہ دی گئی۔ جم چالمرز کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ ذمہ دارانہ ہوگا، جس میں استحکام، اصلاحات، ٹیکس اصلاحات اور بچتوں پر زور دیا جائے گا۔
- حکومت نے مشکلات کا شکار کاروباروں کے لیے ہنگامی قرضہ پروگرام 20 اپریل سے شروع کر دیا ہے، جس کے تحت ایک ارب ڈالر کے قرضے اور 50 کروڑ ڈالر مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ قرضہ اسکیم خاص طور پر ٹرکنگ اور لاجسٹکس کمپنیوں سمیت اُن کاروباروں کی مدد کے لیے ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیر برائے صنعت و جدت ٹم ایئرز نے چینل نائن کے "ٹوڈے پروگرام" میں کہا کہ فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
_____
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے



