Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE starting June 12 2026

ہفتہ رفتہ جمعہ 15 مارچ : جوہری توانائی کا تنازعہ، فلسطینی وزیر اعظم کا انتخاب اور دیگر

Nuclear Power Plant

Nuclear Power plant Source: Getty / Getty Images Europe

ہفتہ رفتہ کی خبریں جمعہ 15 مارچ : جوہری توانائی سے متعلق سیاست دانوں کے بیان پرCSIRO کا ردعمل، فلسیطینی انتظامیہ کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب، روس میں انتخابات اور وسائل کی تقسیم پر مختلف ریاستوں کے مابین بیان بازی۔


تاریخِ اشاعت بجے

By Shadi Khan Saif

پیش کار Shadi Khan Saif

ذریعہ: SBS


Share this with family and friends


ہفتہ رفتہ کی خبریں جمعہ 15 مارچ : جوہری توانائی سے متعلق سیاست دانوں کے بیان پرCSIRO کا ردعمل، فلسیطینی انتظامیہ کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب، روس میں انتخابات اور وسائل کی تقسیم پر مختلف ریاستوں کے مابین بیان بازی۔


آسٹریلیا میں سائنسی اور صنعتی تحقیق کے سرکاری ادارےCSIRO  نے ملکی سیاست دانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جوہری توانائی سے متعلق شکوک و شبہات نہ پھیلائیں۔ یاد رہے کہ اس ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں واضح کیا کہ جوہری توانائی ایک انتہائی مہنگی طرز کی توانائی ہے۔ اس ادارے کے چیف ایگزیکیٹیو ڈگ ہلٹن نے ایک بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ پیشہ ورانہ بنیادوں پر تیار کی گئی ہے۔ اس رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے حزب اختلاف کے رہنما پیٹر ڈٹن نے کہا ہے کہ جوہری توانائی ایک سستا اور بہتر متبادل ہوسکتا ہے۔

 

فلسطینی انتظامیہ نے محمد مصفطیٰ کو نئا وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے۔ یہ انتخاب مقبوضہ فلسطینی خطوں اور مغربی کنارے کے بہتر انتظام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے داخلی دباو کے بعد سامنے آیا ہے۔ مصطفیٰ کی مقرری سے قبل سابق وزیر اعظم محمد شتیحا اور ان کی کابینہ نے گزشتہ ماہ استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدر محمود عباس بدستور فسلطینی انتظامیہ کے سب سے بااختیار عہدیدار ہیں۔

 

روس میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران یوکرائن کے مقبوضہ علاقوں میں بھی ووٹ ڈالنے کا عمل جاری ہے۔ روس کے زیر قبضہ ماوریپول شہر کے ناظم اعلیٰ ویدم بوئیچینکو کے بقول ان مشکل حالات میں بھی ووٹ ڈالنا لازمی ہے۔

 

آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے وزیر خزانہ نے پڑوسی ریاست نیوساوتھ ویلز کے پریمیئر کی جانب سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے متعلق بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک بیان میں نیوساوتھ ویلز کے پریمیئر کرس منس نے کہا ان کی ریاست کے وسائل وکٹوریہ اور ویسٹرن آسٹریلیا کو دیے جارہے ہیں۔ جواب میں وکٹوریہ کے وزیر خزانہ ٹم پالاس نے کہا کہ وکٹوریہ کے وسائل کئی دہائیوں تک نیو ساوتھ ویلز کے انفرااسٹرکچر پر خرچ کیے جاتے رہے ہیں۔

 

آسٹریلیئن ماہرین نے ایک رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ "لانگ کووڈ" کے اثرات ویسے ہی ہیں جیساکہ دیگر وائرسسز سے لاحق ہونے والی بیماریوں کے اور یہ اعضاء پر طویل المدت اثرات نہیں چھوڑتے۔ کوئنزلینڈ کے چیف ہیلتھ آفیسر جون جیراڈ کی جانب سے ترتیب دی گئی اس رپورٹ کے مطابق "لانگ کووڈ" کی اصطلاح دراصل مریضوں کی بہت بڑی تعداد کے باعث عام ہوئی تھی اور اس کا تعلق بیماری کے ممکنہ طور پر دیر تک رہنے والے اثرات سے بالکل نہیں۔


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now