مستقل رہائش کے حصول کے لیے سلمان سخاوت نے سڈنی چھوڑ کر ریجنل آسٹریلیا کا رخ کیا، جہاں انہوں نے فارم پر کام کیا، سخت محنت کی اور محدود طبی سہولیات کے باوجود اپنی حاملہ اہلیہ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کے مطابق چیلنجز اس سفر کا حصہ ہیں، لیکن محنت اور ثابت قدمی سے مستقل رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔
ریجنل آسٹریلیا میں مستقل رہائش (پی آر) کے حصول کا سفر ہر شخص کے لیے مختلف تجربات اور چیلنجز لے کر آتا ہے۔ نارتھرن ٹیریٹری کے شہر کیتھرین میں مقیم عبدالوحید ربانی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ علاقہ بڑے شہروں سے دور ہے، تاہم روزمرہ زندگی کی تمام بنیادی سہولیات یہاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق، ابتدا میں نئے ماحول، محدود آبادی اور مختلف طرزِ زندگی کی وجہ سے کئی مشکلات پیش آئیں، لیکن وقت کے ساتھ حالات بہتر ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے میلبورن میں رہتے تھے، مگر آج وہ کیتھرین میں اپنی زندگی سے زیادہ مطمئن اور خوش ہیں۔
عبدالوحید ربانی نے یہ بھی زور دیا کہ وفاقی اور ریاستی حکومتیں نئی امیگریشن پالیسیاں متعارف کراتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہلے سے موجود درخواست گزاروں اور ان کی زیرِ عمل درخواستوں پر منفی اثرات نہ پڑیں، تاکہ امیگریشن نظام پر اعتماد برقرار رہے۔

دوسری جانب سلمان سخاوت نے بتایا کہ مستقل رہائش کے حصول کے لیے انہوں نے سڈنی کی ملازمت چھوڑ کر تسمانیہ کا رخ کیا، جہاں فارم پر مویشیوں کی دیکھ بھال اور دیگر جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ اپنی حاملہ اہلیہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں، جبکہ طبی سہولیات بھی کافی فاصلے پر تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سفر آسان نہیں تھا، تاہم مستقل مزاجی اور محنت کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے ریجنل آسٹریلیا آنے والے نئے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ ان چیلنجز کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔
سلیمان منصور خان نے بتایا کہ انہوں نے تسمانیہ کے ایک ریجنل علاقے میں رہ کر مستقل رہائش حاصل کی۔ ان کے مطابق، ریجنل علاقوں میں گزارا گیا وقت ان کے امیگریشن سفر میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ مستقل رہائش ملنے کے بعد وہ بہتر روزگار اور زیادہ سہولیات کی دستیابی کے باعث پرتھ منتقل ہوگئے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ریجنل علاقوں میں گزارا گیا وقت ان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔






