یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی کمپیوٹر سائنس کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر مہوش نسیم کے مطابق اگر واضع ہدایات موجود نہ ہوں تو اے آئی ایجنٹ معلومات تلاش کرنے سے آگے بڑھ کربھی بہت سے کام خود بخود کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کتنی خودمختاری حاصل ہو، اس کا تعین انسان اور انہیں بنانے والی کمپنیاں کرتی ہیں، اس لیے واضح حفاظتی حدود اور مؤثر جانچ ضروری ہے۔
ے آئی ایجنٹس روزمرہ کے کام خودکار انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کی بڑھتی خودمختاری سکیورٹی اور جواب دہی کے نئے سوالات بھی پیدا کر رہی ہے۔یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی کمپیوٹر سائنس کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر مہوش نسیم کے مطابق مؤثر حفاظتی حدود، سخت جانچ اور شفاف ضابطوں کے ساتھ کمیونٹیز میں ڈیجیٹل آگاہی بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔
اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی تعداد سے آسٹریلیا میں بجلی اور پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ اور ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیںڈاکٹر مہوش نسیم
ڈاکٹر نسیم کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی تعداد بجلی اور پانی کی طلب میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ اے آئی سے چلنے والے فراڈ تارکین وطن، کثیرالثقافتی برادریوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان خطرات سے نمٹنے کے لیے آگاہی، ڈیجیٹل تعلیم اور محفوظ اے آئی نظام اہم ہیں۔





