شام چوراسی گھرانے کے نامور گلوکار استاد رفاقت علی خان نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں اپنے آسٹریلیا کے دورے، موسیقی کے عالمی سفر, کلاسیکی تربیت ’تو کجا من کجا‘ سے ملنے والی شہرت پر بات کی۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی کے مستقبل، نئی نسل کے فنکاروں اور پاکستان میں موسیقی کو درپیش چیلنجز پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
استاد رفاقت علی خان کہتے ہیں کہ شام چوراسی گھرانے کی صدیوں پرانی روایت اور گھر میں ملنے والی کلاسیکی تربیت نے ان کے فن کو بنیاد فراہم کی۔ ان کے مطابق ہندوستان میں معروف فنکاروں کے سامنے گانا اور جشن ریختہ میں ہزاروں لوگوں کے سامنے غزل پیش کرنا ان کے یادگار تجربات میں شامل ہے۔
استاد رفاقت علی خان کا کہنا ہے کہ کلاسیکی موسیقی بدلتے وقت اور نئی ٹیکنالوجی کے باوجود کبھی ختم نہیں ہو سکتی، کیونکہ غزل، قوالی اور دیگر اصناف کی بنیاد میں اس کے عناصر موجود ہیں۔ وہ نئی نسل کو شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے فن سیکھنے اور اپنے کام پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں فن اور ثقافت کے لیے مزید ادارہ جاتی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔






