آسٹریلیا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اور اس پر رِدّعمل

Australia to recognise Palestinian statehood in September

Australia is to recognise the state of Palestine at the United Nations General Assembly in September.

وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، دو ریاستی حل کی حمایت دہرا دی۔ اس سے قبل آسٹریلیا کے اتحادی کینیڈا، برطانیہ اور فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ آسٹریلیا میں اسرائیلی سفیر نے اس اعلان کو حماس کی حمایت قرار دیا ہے جبکہ فلسطینی حامی گروپ مطالبہ کر رہے ہیں کہ آسٹرییا اسرائیل پر پابندیاں عائید کرے۔


وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔

حزبِ اختلاف کو تشویش ہے کہ یہ اعلان آسٹریلیا اور امریکہ کے درمیان فاصلے بڑھا سکتا ہے۔اپوزیشن کے سینیئر رکن اینگس ٹیلر کا کہنا ہے کہ فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے سے پہلے سے طے شدہ شرائط پوری کی جانی چاہییں۔

پروفیسر سمینہ یاسمین (اے ایم) سینٹر فار مسلم اسٹیٹس اینڈ سوسائٹیز کی ڈائریکٹر اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی پروفیسر ہیں ان کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "مستقبل میں امن کی بحالی" کے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔

بین ساؤل، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے خصوصی نمائندے، نے کہا کہ تسلیم کرنے سے فلسطینی حکام کے لیے قانونی اور سفارتی حقوق میں اضافہ ہو سکتا ہے، مثلاً آسٹریلوی قوانین کے تحت ریاستی استثنیٰ۔

پروفیسر سمینہ یاسمین نے کہا کہ جب تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل فلسطین کو مکمل رکنیت کی اجازت نہیں دیتی، اس کے عملی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ پینی وونگ کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیل کی ریاست اور ایک فلسطین کی ریاست، دونوں قوموں کے عوام کے لیے سلامتی کے ساتھ۔ یہی منصوبہ ہے۔

آسٹریلیا میں متعین اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے "حماس مضبوط ہوگی" اورامن کی کوششیں کمزور ہو ں گی"۔

____
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں
SBS Audio” کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now