ایب یوسف کو اپنی بیٹی کے صرف آٹھ ماہ کی عمر میں کام پر واپس جانا پڑا، جسے وہ ایک تکلیف دہ تجربہ قرار دیتی ہیں۔ یوسف کے مطابق، گھر سے کام کرنا نہ صرف بچے کی پرورش میں مدد دیتا ہے بلکہ وقت کی بچت اور ذاتی سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کے شوہر بھی ہفتے میں تین دن گھر سے کام کرتے ہیں، جو بچوں کی نگہداشت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لچکدار کام کا نظام خواتین اور خاندانوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے رہا ہے۔ اس سے والدین کو نہ صرف کام اور ذاتی زندگی میں توازن ملتا ہے بلکہ دفتر میں صنفی مساوات کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔
گھریلو اخراجات اور مہنگائی کے دباؤ کے سبب اب صرف ایک شخص کی آمدنی سے گزارا ممکن نہیں۔
اب دونوں والدین کو کام کرنا پڑتا ہے تاکہ گھر کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ سڈنی جیسے شہروں میں پراپرٹی کی قیمتوں میں 30 سال میں 777 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اجرتوں میں اتنا اضافہ نہیں ہوا۔ نیو ساوتھ ویلز میں اجرتیں صرف 131.1 فیصد بڑھیں، جس سے گھریلو مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اب خواتین کی کام میں شمولیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تحقیق کے مطابق، آج کی تیس سالہ خواتین اپنی ماؤں کی نسبت دگنی تعداد میں ملازمت کر رہی ہیں۔ گھر سے کام کرنا والدین، خاص طور پر ماؤں، کے لیے ایک سہارا بن گیا ہے۔

یوسف نے ملازمت میں ترقی کے بعد نئی ماؤں کے لیے لچکدار پالیسی اپنائی تاکہ وہ پرسکون طریقے سے کام پر واپس آ سکیں۔ لچکدار اوقات کار کی بدولت یوسف وقت پر کام مکمل کرتی ہیں اور بچوں کی پرورش کے ساتھ کام میں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ کَیری کلیمور، جو جڑواں بچوں کی ماں ہیں، نے بھی گھر سے کام کرنے کو زندگی کا سکون دہ حل قرار دیا۔ وہ چاہتی ہیں کہ خواتین رہنمائی کے کردار بھی نبھائیں اور بچوں کی پرورش سے بھی محروم نہ ہوں۔ کچھ آجر اب بھی ملازمین کو دفتر واپس لانے پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، وفاقی انتخابی مہم کے دوران پیٹر ڈٹن کی اس تجویز پر عوامی ردعمل منفی رہا کیونکہ لوگ گھر سے کام کو مالی بچت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

گھر سے کام کے کئی فوائد ہیں:
وقت کی بچت، بہتر ذہنی سکون، خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع، اور سماجی بھلائی میں شمولیت۔ یہ نظام بزرگوں کو بھی مدد کرنے کا موقع دیتا ہے اور نیورو ڈائیورجینٹ افراد کی شمولیت میں اضافہ کرتا ہے۔ پروڈکٹیوٹی کمیشن کے مطابق، گھر سے کام کرنے سے قومی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بشرطیکہ خطرات پر نگاہ رکھی جائے اور ضروری اقدام کیے جائیں۔ جدید خاندانوں کی ورک لائف بیلنس کے موضوع پر یہ سلسلہ وار رپورٹ کا پہلا حصہ ہے۔ اگلے ہفتے اس پر بات کی جائے گی کہ دیگر دفتری اصلاحات کس حد تک مؤثر ہو سکتی ہیں۔







