ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

آسٹریلیا کی پارلیمانی تاریخ کا ہنگامہ خیز باب جب وزیرِ اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی

The House of Representatives during a division Source: https://peo.gov.au/

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں عمران خان تیسرے وزیراعظم ہیں جنہیں تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں آسٹریلیا میں تحریکِ عدم اعتماد کی کہانی سے جڑا ہنگامہ خیز دور 1975کا سیاسی دور تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو غیر منتخب گورنر جنرل نے برطرف کیا۔ لیبر لیڈر گف وائٹلم کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تو آسٹریلین پارلیمنٹ نے حزب اختلاف کی لبرل پارٹی کے لیڈراور نامزد عبوری وزیراعظم میلکم فریزرکی حکومت پر عدم اعتماد کا ووٹ منظور کیا تھا۔ مگر اس سے پہلے گورنر جنرل کے اسملبلیاں تحلیل کرنے کے حکم کے باعث یہ تحریک غیر موثر قراردے دی گئی۔

 تاریخی طور پر آسٹریلیا کی پارلیمانی تاریخ میں لیبر وزیرِ اعظم گوف وائٹلم کی وزارتِ عظمیٰ کا دور انتہائی ہنگامہ خیز اور متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔ ،11 نومبر 1975 کو آسٹریلیا کے اس وقت کے گورنر جنرل سر جان کیر نے آسٹریلین لیبر پارٹی (ALP) کے وزیراعظم گوف وائٹلم  کو برطرف کر کے اپوزیشن  کی لبرل پارٹی کے میلکم فریزر کو نگران وزیر اعظم  نامزد کردیا۔ اسے آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اور آئینی بحران قرار دیا جاتا ہے۔

1975 میں اس وقت کی حزبِ اختلاف کی لبرل پارٹی کے رہنما  میلکم فریزر کی قیادت میں اپوزیشن نے سینیٹ میں اکثریت کے باعث سینٹ پر اپنے کنٹرول کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری اخراجات  کے بلوں کی منظوری کو کئی بارنا منظور یا بلاک کر دیا تھا، حالانکہ یہ بل حکومتی اکثریت والی پارلیمنٹ یا  ایوان نمائندگان سے پہلے ہی منظور ہو چکے تھے۔ فریزر اور انکی اپوزیشن جماعت نے کہا کہ وہ سینیٹ میں ان بلوں کو روکنا جاری رکھیں گے جب تک کہ  وزیر اعظم گوف وائٹلم ایوان نمائندگان کے لیے نئے انتخابات کی تجویز لے کر گورنر جنرل کے پاس نہیں جاتے۔

1975 political crisis.
Malcolm Fraser was appointed caretaker prime minister following Gough Whitlam's dismissal in 1975.
National Library of Australia

گورنر جنرل جان کیر کو جولائی 1974 میں وزیر اعظم  گوف وائٹلم کے مشورے پر گورنر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم کا خیال تھا کہ خود ان کے نامزد کردہ گورنر جنرل  انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف نہیں کریں گے اور خود گورنر جنرل نے بھی وزیراعظم کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ حکومت کی برطرفی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ مگر11 نومبر 1975 کو، بحران اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب  وزیر اعظم گوف وائٹلم پارلیمانی تعطل کوختم کی کوشش میں سینیٹ کی صرف آدھی نشستوں پر نئے انتخابات کی تجویز لے کر گورنر جنرل  کیر کے پاس گئے۔ مگر وزیر اعظم ہی کے اعتماد سے متعین کردہ گورنر جنرل نے وزیر اعظم گوف وائٹلم کی درخواست کو قبول کرنے  کے بجائے خود وزیر اعظم گوف ویتھلیم کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کر دیا اور اپوزیشن لیڈر میلکم فریزر کو نگراں وزیر اعظم کے طور پر مقرر کر دیا ۔ عام خیال یہی تھا کہ نئے مقرر کردہ وزیراعظم مسٹر فریزر فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کریں گے جس کا وہ خود مطالبہ کرتے رہے تھے۔ مگر حکومتی تبدیلی  کی خبر تمام ALP پارلیمنٹرینز کے علم میں آنے سے پہلے ہی  میلکم فریزر اور ان کے پارلیمانی اتحادی سینیٹ کے ذریعے سپلائی بلوں کی منظوری میں کامیاب ہو گئے۔

1975  Australian parliamentary crisis
Gough Whitlam on the steps of Old Parliament House after his government was dismissed in 1975.
National Library of Australia

اسی دوران عبوری وزیراعظم  میلکم فریزر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوئی اور پارلیمنٹ میں برطرف شدہ وزیراعظم کی لیبر پارٹی کی اکثریت کے باعث منظور بھی ہوئی مگر  اس پر عمل درآمد سے پہلے گورنر جنرل پارلیمان تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کرچکے تھے اس لئے تحریک عدم اعتماد پر عمل کے بجائے اس سے پہلے اعلان کے مطابق پارلیمنٹ اور سینیٹ دونوں تحلیل ہوگئے۔ لہذا تحریکِ عدم اعتماد  تکنیکی طور پر اثر انداز نہیں ہوئی۔ کیر کے کردار پر تنازعہ جزوی طور پر ان واقعات کی وجہ سے کھڑا ہوا - کچھ کا خیال ہے کہ گورنر جنرل نے میلکم فریزر کے ساتھ سازش کی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سینٹ کے اسپیکر کو عدم اعتماد کا پیغام نہ پہنچایا جائے اور بلوں پر ووٹنگ کروا کر انہیں منظور کروا کر پارلیمان تحلیل کر دی جائے۔اور پھر میلکم فریزر نے گورنر جنرل کیر کو مشورہ دیا کہ وہ دوہری تحلیل یا ڈبل ڈیسیولیشن کر کے  نئےانتخابات کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیں۔ لبرل لیڈر میلکم فریزر اور ان کا لبرل اتحاد اگلے ماہ ہونے والے وفاقی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گیا۔

 آسٹرلیا کی پارلیمانی تاریخ میں ایسے حالات بھی رہے ہیں کہ حکومت کسی اور طریقے سے ایوان کا اعتماد کھو چکی ہے۔ 1929 میں، اسٹینلے بروس کی حکومت کو میری ٹائم انڈسٹریز بل میں ترمیم پر شکست ہوئی، اور اس نے انتخابات کا اعلان کیا۔ 1931 میں التوا کے ووٹ پر جیمز سکلن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، اور 1941 میں جب ایوان نے اپنے بجٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تو فیڈن حکومت نے استعفیٰ دے دیا۔ فیڈن کے معاملے میں، کوئی الیکشن نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے گورنر جنرل کو مشورہ دیا کہ وہ لیبر کے جان کرٹن کو وزیر اعظم مقرر کریں۔

 جب کسی پارلیمانی پارٹی کا رکن اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو اسے ’کراسنگ دی فلور‘ کہا جاتا ہے۔ یہ فیکٹ شیٹ فرش عبور کرنے کی فریکوئنسی اور ممکنہ نتائج کی کھوج کرتی ہے۔

Debate in the House
Scene of a debate session in Australian parliament.
https://peo.gov.au
 

کسی معاملے پر ایوان نمائندگان منقسم 

پارلیمنٹ میں کسی سوال کے حل کے لیے ووٹ لینا ضروری ہے۔ پارلیمانی جماعتیں عام طور پر ایک ٹیم کے طور پر ووٹ دیتی ہیں، تمام پارٹی ممبران اسی طرح ووٹ دیتے ہیں۔ ایک پارلیمانی پارٹی کا رکن جو کسی ڈویژن میں اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دیتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس نے فلور کراس کر لیا ہے۔

تعداد
پارلیمانی پارٹیوں کے ارکان شاذ و نادر ہی فلور کراس کرتے ہیں کیونکہ پارٹیاں اپنی ٹیم کے ارکان سے وفاداری کی توقع رکھتی ہیں۔ فلور کراس کرنا عوامی سطح پر پارٹی کے اندر اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پارٹی کی ضروریات سے زیادہ ووٹروں کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس وجہ سے یہ رائے دہندگان میں عوام میں مقبول تو ہوسکتا ہے لیکن پارٹی میں نہیں۔ فلور کراس کرنے والے ممبر پارلیمنٹ کو اپنی پارٹی کا غدار سمجھا جا سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کے اراکین فلور پار نہ کرنے کے قائل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں:

ان کی پارٹی ان کی وفاداری کے عوض مدد اور مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
ان کی پارٹی فلور کراس کرنے پر پابندی لگا سکتی ہے۔
ان کے عمل سے صرف اس صورت میں فرق پڑ سکتا ہے جب کافی لوگ ووٹ کا نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے منزل کو عبور کریں۔ نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے ضروری معاونت کے بغیر، فلور کراس کرنا ایک متنازعہ عمل ہے جو ووٹ کا نتیجہ نہیں بدل سکتا۔

 ضمیر کا ووٹ

ضمیر کے ووٹ میں – جسے پارلیمنٹ میں آزاد ووٹ کہا جاتا ہے – پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنی پارٹی کے ساتھ ووٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، وہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق ووٹ دے سکتے ہیں۔ ضمیر کا ووٹ عام طور پر اخلاقی مسائل کا فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے یوتھناسیا، اسٹیم سیل ریسرچ یا ہم جنس شادی۔ ہر پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرتی ہے کہ آیا اس کے ممبران کو کسی خاص مسئلے پر ضمیر سے ووٹ دینے کی اجازت ہے۔

ایک متنازعہ ایشو پر پارلیمنٹ کے ممبران کو فلور کراس کرنے سے روکنے کے لیے ضمیر سے ووٹ لیا جا سکتا ہے جو کہ دوسری صورت میں پارٹی کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، یا ممبران پارلیمنٹ کو اپنے مضبوط عقائد کا اظہار کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

ضمیر کے ووٹ کا استعمال کم ہواتا جا رہا ہے۔ 1950 سے 2007 تک، بلوں پر صرف 32 ووٹ - مجوزہ قوانین - اور پارلیمنٹ میں دیگر مسائل کا فیصلہ ضمیر کے ووٹ سے کیا گیا۔

تاریخ
اگرچہ فرش کو عبور کرنا اب شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، لیکن ماضی میں یہ زیادہ کثرت سے ہوا ہے۔ 1950 سے 2004 تک، پارلیمنٹ کے 245 ممبران نے فلور کراس کیا، جو اس عرصے میں خدمات انجام دینے والے پارلیمنٹ کے 24 فیصد ممبران کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان فلور کراسنگ سے صرف 12 فیصد ڈویژن متاثر ہوئے۔ تسمانیہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ریگ رائٹ، جنہوں نے 1950 سے 1978 تک خدمات انجام دیں، 150 مرتبہ منزل عبور کی۔ یہ سب سے زیادہ مرتبہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ نے ایسا کیا ہے۔

ٹائی ووٹ
ایوان نمائندگان میں، اسپیکر اس وقت تک ووٹ نہیں دیتا جب تک کہ نتیجہ برابر نہ ہو، ایسی صورت میں اسپیکر کے پاس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے کاسٹنگ ووٹ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، سینیٹ کا صدر ہمیشہ دوسرے سینیٹرز کے ساتھ ووٹ دے سکتا ہے۔ یہ انتظام آئین میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا کہ جب سینیٹ میں ووٹ لیے جائیں تو تمام ریاستوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہو۔ اگر سینیٹ میں ووٹ برابر ہے، تو سوال نفی میں حل ہو جاتا ہے - ہارا ہوا - کیونکہ اکثریتی ووٹ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کا اب تک کا  منظر نامہ

قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔ اب تک پاکستان کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جاچکی ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ سابقہ وزیر اعظم بے نظیر بھثو  کے خلاف 1989 اور وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف 2006 میں تحارک پیش ہوئیں اور اب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تیسری تحریکِ عدم اعتماد پیش کی گئی ہے ۔ پچھلی دونوں تحاریک ناکام ہوٸیں ۔  وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اس وقت لائی گئی ہے جب ان کی حکومت کی معیاد مکمل ہونے میں ڈیڑھ برس کا عرصہ باقی ہے۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھی اپنے خلاف اس وقت تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا جب نئے انتخابات ہونے میں ڈیڑھ برس باقی رہ گیا تھا۔

 

پاکستانی قومی اسمبلی کے لیگل برانچ حکام کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور تحریک عدم اعتماد پیش ہونےکے 3 سے7 روز کے درمیان اس پر ووٹنگ کرانی ہوگی،۔قومی اسمبلی کا اجلاس سینیٹ ہال یا کسی اور مقام پر بھی ہو سکتا ہے۔

 آئینی ماہرین کے مطابق  کوئی جماعت  اپنےاراکین کو وزیر اعظم کے خلاف  یا ان کے حق میں  ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی۔ اگر فرض کریں کہ حکومت فلور کراسنگ کرنے والے ممبران کی نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دے اور وہ اراکین نا اہل ہو جائیں تب بھی ان کے نا اہل ہونے سے ان ممبران کے ووٹوں کی کمی کے باعث وزیرِ اعظم کے حق میں اعتماد کے لیے مزید ووٹ درکار ہونگے اور ان کو پورا کرنے والا کوئی  ممبر نہیں ہو گا۔

ہفتہ رفتہ: کیا واقعی اتحادی سو فیصد عمران خان کے ساتھ نہیں؟
00:00 00:00

  اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ المبارک دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا۔


 ماخذ اور حوالے 

آسٹرلین پارلیمنٹ

آسٹریلیا کی سیاست میں 1975 کا بحران

آسٹریلیا میں عدم اعتماد کا ووٹ


پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے سب سے اوپر دئیے ہوئے اسپیکر آئیکون پر کلک کیجئے یا نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے

 

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
آسٹریلیا کی پارلیمانی تاریخ کا ہنگامہ خیز باب جب وزیرِ اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی 21/03/2022 00:06 ...
حالاتِ حاضرہ ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم اور اتحادی جماعتیں شہباز شریف سے غیر مطمئین کیوں؟ 30/06/2022 00:09 ...
ماڈرن آسٹریلیا کی نمائندہ، کمیونیکیشن منسٹر مشیل رولینڈ سے ایک ملاقات 29/06/2022 15:16 ...
پاکستان ہائی کمیشن کا مینگو فیسٹول ، پاکستان آسٹریلیا کے مابین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل 29/06/2022 07:56 ...
پاکستان آسٹریلیا سے پچز درآمد نہیں کررہا : اسپورٹس راونڈ اپ 26/06/2022 09:53 ...
پاکستان کے نوجوان فلمساز بنے آسٹریلیا میں نیو یارک فلم اکیڈمی کے مہمان 25/06/2022 29:08 ...
حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا پلان تیار کر لیا 21/06/2022 15:05 ...
تارک وطن افراد " ٹیف " سے کیسے فائدہ اٹھائیں 21/06/2022 09:48 ...
ابھی تو بس وارم اپ ہوا ہے: پاور ومن اپنی شاندار فتح کے بعد مزید سنسنی خیز مقابلوں کیلیے پرعزم 20/06/2022 45:14 ...
میلبرن میں منعقد فیکا کا آنکھوں دیکھا احوال 18/06/2022 11:01 ...
View More