امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان پہ ماضی کی نسبت ٹیرف کم کرنا یقینا پاکستان کی کمزور معشیت کے لیے اچھی خبر ہے ، اسی طرح آسٹریلیا کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ٹیرف برقرار ہے، دونوں ممالک کے پاس کیا مواقع اور چیلینجز ہیں؟ ، آسٹریلیا پاکستان چیمبرآف کامرس کےصدر محمدآصف کی رائے سنیے اس پوڈ کاسٹ میں.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ کیے جانے والے نئے تجارتی معاہدے سخت شرائط پر مبنی ہیں، جن کا مقصد امریکی معیشت کو تحفظ دینا اور بیرونی مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔تاہم ان معاہدوں میں پاکستان اور آسٹریلیا کو نسبتاً ریلیف دیا گیا ہے- ۔پاکستان، جو اپنی معیشت کو برآمدات کے ذریعے سہارا دیتا ہے، اب امریکہ کی نرم ٹیرف پالیسی کے باعث اپنی تجارتی برآمدات بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کا سامان اور سرجیکل آلات جیسے شعبے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
آسٹریلوی حکومت بھی ان مذاکرات میں ایک مضبوط تجارتی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ کم نرخوں پر تجارتی معاہدے ہونے سے آسٹریلین زرعی اور معدنی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں بہتر جگہ حاصل ہو سکے گی، جو اس کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔اسی دوران، صدر ٹرمپ نے پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے امریکی ارادے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر یہ عملی صورت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور معیشت دونوں کو طویل مدتی فائدہ ہو سکتا ہے۔




