وزیر اعظم انتھونی البانیز نے نیویارک سٹی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باہر ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا باضابطہ طور پر "آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست" کو تسلیم کرے گا۔ یہ اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہے اور غزہ میں جاری تباہ کن حماس-اسرائیل جنگ کے دوران دو ریاستی حل کے نئے راستے کی تلاش کے لیے ایک مربوط بین الاقوامی کوشش کے مطابق ہے۔برطانیہ اور کنیڈا سمیت آسٹریلیا ان 147 ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا یے۔
آسٹریلیا نے فلسطین کو تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو پائیدار امن اور سلامتی کا واحد راستہ قرار دیا۔ وزیر اعظم البانیز چار روزہ دورہ امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی پہلی تقریر کریں گے جو لیڈرز ویک سمٹ کا حصہ ہے۔
اس اعلان کے بعد آسٹریلیا اب اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے ان 147 سے زائد ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں۔
اس فیصلے پر اسرائیلی حکومت، امریکی ریپبلکنز اور آسٹریلوی اپوزیشن نے تنقید کی، اپوزیشن نے اسے "کھوکھلا اقدام" اور فلسطینیوں کے لیے "جھوٹی امید" قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ تسلیم تنازع کے دوران نہیں بلکہ امن عمل کے بعد ہونا چاہیے۔
حکومت نے امن منصوبے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جو غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔ مزید سفارتی اقدامات فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات پر منحصر ہوں گے۔ البانیز دورے کے دوران اردن کے بادشاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کریں گے۔
یہ پوڈ کاسٹ SBS news کے انگریزی آرٹیکل پر مبنی ہے ۔ مکمل آرٹیکل پڑھئے ۔




