ہیومن رائٹس واچ کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق جمہوریت اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ میں خاص توجہ امریکہ پر مرکوز کی گئی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کے مطابق انسانی حقوق بتدریج کمزور ہو رہے ہیں، تاہم آسٹریلیا کو بھی نمایاں طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی امیگریشن اور نوجوانوں کی حراستی پالیسیاں ’سنگین ناکامیاں‘ قرار دی گئی ہیں، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا واحد مغربی جمہوریت ہے جہاں قومی انسانی حقوق کا کوئی قانون موجود نہیں۔
عالمی جمہوریت 1985 کی سطح تک واپس جا چکی ہے — یہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ کا تازہ جائزہ ہے۔
رپورٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ابتدائی باب میں امریکہ، چین اور روس کو فوری طور پر قوانین پر مبنی عالمی نظام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
فلپ بولیپیون کا کہنا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کا نظام خطرے میں ہے۔




