ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کےتناظر میں سفارتی پیش رفت کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ۔ ڈییکن یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی کے امور کے ریسرچر ڈاکٹر ذاہد شہاب احمد سے بات چیت میں سنئے کہ کیا پاکستان دونون فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے؟
________________________________________________________________________________
TRANSCRIPT اردو ٹرانسکرپٹ:
100:00:16,460 --> 00:00:21,900
ایران کے جوہری پروگرام پر بنیادی اختلافات کے باعث اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، اگرچہ مبصرین کا کہنا ہےکہ بات چیت مثبت رہی اور کچھ معاملات پر پیشرفت بھی ہوئی، تاہم سب سے اہم مسئلہ یعنی ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات آڑے آگئے。 کیا پاکستان کا ابھی بھی کوئی ثالثی کردار بنتا ہے اور مرکزی فریقین کے پاس آگے
بڑھنے کے لیے کیا ممکنہ راستے موجود ہیں اورعالمی کمیونٹی اس بارے میں کیا سوچ رہی ہے؟اس طرح کے کئی سوالات کے جواب جاننے کے لیےہم نے Deakin یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر زاہد شہاب سے بات چیت کی ہے، جو جنوبی ایشیا اور
مشرقی وسطی میں امن و سلامتی کے امور کےresearcher ہیں。
00:01:01,840 --> 00:01:05,379
اس وقت میرے ساتھ ڈاکٹر زاہد شہاب موجود ہیں. ڈاکٹر صاحب یہ فرمائیے گا کہ کیا پاکستان نے بڑے پیمانے پر عالمی سطح پر ہونےوالے کسی مصالحتی کردار کو پہلے نبھایاہے اور کون سے ایسے تجربات تھے جو پاکستان کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہوئے؟
00:01:19,280 --> 00:01:25,020
پاکستان کا اگر دیکھا جائے تو پاکستان کوایسے مواقع ماضی میں بھی ملے ہیں. پاکستان کی اگر جو foreign policy دیکھی جائے،پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جو مسلم امہ کے ساتھ ہمارے جو تعلقات ہیں وہبہترین ہو اور ہم کوئی نہ کوئی ایسا کردارادا کریں کہ وہ جو ہمارا کردار ہے اس کی ااہمیت میں اضافہ ہو تو یہ ایک کہہ لیں گے کہایک سنہری موقع تھا ہمارے لیے، پاکستان کے لیے کہ وہ اس کو اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکتے اور ایک ایسا موقع جب پاکستان کا اب
00:01:52,340 --> 00:01:56,680
جو آپ کہہ لیں، پاکستان کی جو امیج مغربی دنیا اور مسلم امہ میں ہے وہ کافی بہتر ہوئی ہے، اور اس میں پاکستان کی جانب سے جو امیج بلڈنگ اور اپنی گڈ وِل کی پروموشن کی گئی ہے اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں پاکستان کو کئی جیو اسٹریٹجک فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ اس عمل کی میزبانی کرنے میں کامیاب رہا اور ایران اور امریکہ کے وفود کو اسلام آباد لانا اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی تھی۔ اگرچہ سب کو امید تھی کہ اس کے نتیجے میں کوئی امن معاہدہ، اسلام آباد ڈیکلریشن یا کسی قسم کے ایکارڈز سامنے آئیں گے، لیکن موجودہ حالات میں یہ مشکل تھا کیونکہ ایک طرف سپریم لیڈر کی بیماری، قیادت پر حملے اور غیر یقینی صورتحال موجود تھی، اس لیے زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود پاکستان نے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا جسے عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا۔ ڈاکٹر زاہد شہاب کے مطابق پاکستان اس بات کی کوشش کرے گا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ اور مومنٹم برقرار رہے اور فریقین دوبارہ بات چیت کی میز پر آئیں، کیونکہ ماضی میں بھی پاکستان کو ایسے مواقع ملتے رہے ہیں اور اس کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مسلم امہ کے ساتھ مضبوط تعلقات اور مؤثر کردار ادا کرنے پر مرکوز رہی ہے، اس لیے یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اس سے مزید فائدہ اٹھا سکے اور اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کرے۔
00:04:55,800 --> 00:05:01,560
ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے تناظر میں سفارتی پیش رفت کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ڈیکن یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے امور کے ریسرچر ڈاکٹر زاہد شہاب احمد سے اس سلسلے میں گفتگو کی گئی۔ خطے میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے SBS.com.au/اردو پر جائیں، اور ایس بی ایس اردو کو SBS South Asian پر فالو کریں۔











