ایران نے اپنے رہنما کو جاں بحق کرنے اور حملے شروع کرنے کے لئے امریکہ کے خلاف انتقام لینے کا عزم کیا ہے یاد رہے مذکورہ حملے شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں۔ لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی نقصانات میں اضافہ ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس اقدام کی مذمت کی ہے، لیکن یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ امریکہ کو ان حملوں کا آغاز کرنے پر قانونی اور سفارتی نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔
متعدد ماہرین اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ ایران 2015 میں صدر براک اوباما کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کر رہا ہے۔
پروفیسر بین ساؤل سڈنی یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے ماہر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جب کہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ حملے پہلے سے کیے گئے تھے اور جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے تھے - یہ سچ نہیں ہے، انھوں نے بین الاقوامی قانون کو توڑا ہے۔
ایران میں شہری ہلاکتوں کی رپورٹس میں بچوں سمیت 150 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ، اور مشرقِ وسطیٰ میں دیگر تیسرے فریق ممالک میں بھی ہلاکتوں کے ساتھ، اس "مہم" کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی حمایت نہیں کر رہی۔
میلبورن یونیورسٹی کی مشرق وسطیٰ کے ماہر، ڈاکٹر دارا کُنڈِٹ، کہتے ہیں کہ صدر اور امریکی حکومت کے لئے قانونی اور سیاسی مضمرات کے باوجود، سب سے زیادہ اثرات بالآخر ایرانی عوام پر ہوں گے۔





