اینالاگ ڈیوائسز ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہیں، یہاں تک کہ سب سے زیادہ ٹیکنالوجی سے جڑی ہوئی نسل، جنریشن زی میں بھی۔ آخر کیوں وہ لوگ ایسی ٹیکنالوجی اپنا رہے ہیں جس کا زمانہ انہوں نے دیکھا بھی نہیں؟
جنریشن زی پہلی ڈیجیٹل نیٹو نسل ہے، جس کے بیشتر افراد نے اسمارٹ فونز کے بغیر دنیا نہیں دیکھی۔
اشجین شریف کی عمر 24 سال ہے اور وہ اپنے فون کو لینڈ لائن کی طرح استعمال کرتے ہیں۔
وہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے اور موسیقی سننے کے لیے 16 جی بی اسٹوریج والا آئی پوڈ استعمال کرتے ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ سال سے وہ اسی طرزِ زندگی پر قائم ہیں.
ڈاکٹر برٹنی فرڈینینڈز، یونیورسٹی آف سڈنی میں ڈیجیٹل میڈیا کی لیکچرر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الگورتھمز نے لوگوں کو ایک محدود آن لائن دنیا میں قید کر دیا ہے۔گزشتہ ایک سال میں ایسے رجحانات سامنے آئے ہیں جو الگورتھم کے اثر کو چیلنج کرتے ہیں۔جیسے "نیو ٹرو"، ڈیجیٹل منیملزم، اور "کرونک آف لائن" کا تصور۔2025-26 کے ایک سروے کے مطابق، 18 سے 25 سال کے 76 فیصد سے زائد آسٹریلوی نوجوانوں نے گرمیوں میں ڈیجیٹل ڈیٹاکس پر غور کیا۔
ڈاکٹر فرڈینینڈز کا کہنا ہے کہ ان کے طلبہ بھی اینالاگ طرزِ زندگی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ رو بہ رو میل جول کی خواہش نے سماجی کلبوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر فرڈینینڈز خود ایک بک کلب چلاتی ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل تھکن کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان مکمل طور پر آن لائن دنیا چھوڑنا چاہتے ہیں۔





