سفارت کار اور تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی پسِ پردہ رابطوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات اور تجاویز خاموشی سے منتقل کر رہا ہے۔تاہم سفارتی پیش رفت کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کیونکہ امریکی اسرائیلی حملوں اور خلیجی ممالک اور اسرائیل پر ایرانی جوابی حملوں کے درمیان ایران اب بھی کسی باضابطہ ثالثی عمل کی تردید کرتا ہے۔
جانئے سابق سفارت کار اور تجزیہ نگار اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
پاکستان نے اتوار کے روز مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی بلکہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ ایک اہم دورے پر چین پہنچے ہیں جہاں چینی حکومت نے پاکستانی تجاویز کی حمایت کی ہے۔






