پاکستان میں سفر کے دوران ایک پرتھ کا خاندان مبینہ طور پر ڈکیتی کا شکار ہوا، جس کے بعد وہ مشتبہ ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کارروائی کی زد میں آ گیا۔ واقعے میں والد عدیل احمد اور ان کا بیٹا زخمی ہوئے، جبکہ ان کی سات سالہ آسٹریلین بیٹی ہانیہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اہلِ خانہ کو مشتبہ افراد سمجھنے کے باعث فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئیں۔ پاکستانی حکام نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے شفافیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں عدیل احمد نے کہا کہ متضاد بیانات اور غلط معلومات کی فراہمی نے پولس کی تحقیات کو مشکوک بنا دیا ہے۔ انہوں نے آسٹریلین حکومت سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ کرے تاکہ مکمل اور شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں اور ان کے خاندان کو انصاف مل سکے۔
عدیل احمد کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

اس واقعے کی رپورٹنگ کرنے والے چکوال کےمقامی صحافی مرزا ساجد نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورا علاقہ سوگ کی فضا میں ہے، جبکہ متاثرہ خاندان اور ان کے عزیز و اقارب انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد مختلف مراحل پر سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے، جس کے باعث معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت مزید اہم ہوگئی۔

عدیل احمد کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور آسٹریلیا، دونوں ممالک کے متعلقہ حکام سے انصاف کی امید رکھتے ہیں تاکہ ان کی بیٹی کی ہلاکت کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔
ادھر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چکوال کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق شفاف انکوائری کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بھی تشکیل دی جائے گی تاکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔





