آسٹریلیا میں گھر خریدنے کا خواب بہت سے لوگوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔ گھروں کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں، رہائش کی قلت برقرار ہے اور شرحِ سود میں مسلسل اضافے کے بعد خریدار محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ آسان نہیں، لیکن کچھ ایسے عوامل بھی سامنے آ رہے ہیں جو پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں پہلا گھر خریدنے کا فیصلہ درست ہوگا؟
اسی موضوع پر بات کرتے ہیں پراپرٹی اور مارگیج ماہر علی محبوب سے، جبکہ ایک ایسے خریدار زید بھروچا سے بھی جانیں گے جنہوں نے حال ہی میں اپنے پہلے گھر کی تلاش اور خریداری کا تجربہ کیا۔
گزشتہ چند برسوں میں آسٹریلیا کی ہاؤسنگ مارکیٹ نے غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا۔ وبا کے بعد گھروں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، پھر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ریزرو بینک نے شرحِ سود میں اضافہ کیا، جس سے قرض لینے کی لاگت بڑھ گئی۔ اس کے باوجود آبادی میں اضافے، محدود ہاؤسنگ سپلائی اور کرایوں میں مسلسل اضافے نے جائیداد کی طلب کو برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے پہلے گھر کے خریدار اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ انتظار کریں یا موجودہ مارکیٹ میں قدم رکھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ "صحیح وقت" ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ فیصلہ صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ قیمتیں اوپر جائیں گی یا نیچے، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ خریدار کی مالی صورتحال کتنی مضبوط ہے۔ اگر آمدنی مستحکم ہو، مناسب ڈپازٹ موجود ہو، قرض کی اقساط برداشت کی جا سکتی ہوں اور مستقبل کے اخراجات کا حقیقت پسندانہ اندازہ ہو، تو بعض اوقات مارکیٹ کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی ضرورت کے مطابق فیصلہ زیادہ اہم ثابت ہوتا ہے۔
اسی دوران وفاقی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے مختلف اسکیمیں بھی دستیاب ہیں، جن میں گرانٹس، اسٹامپ ڈیوٹی میں رعایت یا کم ڈپازٹ کے ساتھ گھر خریدنے کے پروگرام شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے اہلیت کے معیار مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار اور معاشی تجزیوں سے ہٹ کر، گھر خریدنے کا سفر ایک جذباتی تجربہ بھی ہوتا ہے۔ پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کو اکثر بجٹ، قرض، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مقابلے کی مارکیٹ جیسے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسا ہی تجربہ رہا زید بھروچا کا، جنہوں نے حال ہی میں اپنا پہلا گھر خریدا۔ زید کا تجربہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ پہلی بار گھر خریدنے کا عمل صرف مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی، تحقیق اور صبر کا امتحان بھی ہوتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ خریدار اپنی مالی استطاعت کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں، قرض لینے سے پہلے مختلف قرض دہندگان کی شرائط کا موازنہ کریں، اضافی اخراجات جیسے قانونی فیس، انسپیکشن، انشورنس اور مستقبل کی شرحِ سود میں ممکنہ تبدیلیوں کو بھی مدنظر رکھیں۔
تو کیا یہ آسٹریلیا میں پہلا گھر خریدنے کا صحیح وقت ہے؟ اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں۔ اگرچہ مارکیٹ میں چیلنجز برقرار ہیں، لیکن بعض خریداروں کے لیے موجودہ حالات ایسے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں جو شاید مستقبل میں دستیاب نہ ہوں۔
بالآخر فیصلہ مارکیٹ کو "ٹائم" کرنے سے زیادہ اپنی مالی تیاری، طویل مدتی منصوبہ بندی اور ذاتی حالات کو سمجھنے پر منحصر ہے۔





