آسٹریلین بیورو آف اسٹیٹسٹکس (ABS) کی قومی مردم شماری کی ترجمان ایمیلی والٹر کا کہنا ہے کہ ABS کبھی بھی بینک کی تفصیلات، ٹیکس فائل نمبر یا پاس ورڈ طلب نہیں کرتا۔اور اگر کسی شخص کو مشتبہ معلومات یا ممکنہ فراڈ کا شبہ ہو تو وہ فوری طور پر ABS کی ویب سائٹ، مردم شماری رابطہ مرکز یا ABS سروے رابطہ مرکز سے رجوع کرے۔ تفصیل جانئے اس پوڈکاسٹ سیریز کی اس قسط میں۔
تارکینِ وطن اپنی زبان میں اسکیمز کو روکنے اور ان کی رپورٹ کرنے کے لیے کہاں سے مدد حاصل کر سکتے ہیں؟
- لوگ کیسے یقین کریں کہ ان کے دروازے پر آنے والا کارکن واقعی سرکاری اہلکار ہے، اور اگر وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو انہیں کیا کرنا چاہیے؟
- بین الاقوامی طلبہ اور وزیٹرز، جو نسبتاً زیادہ حساس صورتحال میں ہو سکتے ہیں، اگر کوئی دھوکے باز انہیں ملک بدری کی دھمکی دے تو انہیں کیا کرنا چاہیے؟
آسٹریلین بیورو آف اسٹیٹسٹکس (ABS) کی قومی مردم شماری کی ترجمان ایمیلی والٹر بتاتی ہیں کہ کہ مردم شماری کے دوران کسی دھوکے یا فراڈ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم مشتبہ جعلسازوں سے محفوظ رہنے کے لئے کچھ ہدایات پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

ایمیلی والٹر کے مطابق مردم شماری کے فیلڈ افسران فارم تقسیم کرنے اور یاددہانی کے لیے گھروں کا دورہ کر سکتے ہیں، اور ان کے پاس ہمیشہ ABS کا شناختی کارڈ ہوتا ہے، جبکہ بعض افسران زرد رنگ کا تھیلا بھی ساتھ رکھتے ہیں۔
ایمیلی والٹر نے واضح کیا کہ ABS کبھی بھی بینک کی تفصیلات، ٹیکس فائل نمبر یا پاس ورڈ طلب نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، اگر کسی شخص کو مشتبہ معلومات یا ممکنہ فراڈ کا شبہ ہو تو وہ فوری طور پر ABS کی ویب سائٹ، مردم شماری رابطہ مرکز یا ABS سروے رابطہ مرکز سے رجوع کرے، جبکہ معلوم ہونے والے فراڈ سے متعلق معلومات بھی ABS اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔





