چیف جسٹس اینڈریو بیل نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ قوانین آئین میں شامل حکومت اور سیاسی معاملات پر اظہارِ رائے کی آزادی پر "ناقابلِ قبول بوجھ" ہیں۔
اس فیصلے کے بعد فلسطین ایکشن گروپ اور بلیک کاکس سمیت درخواست گزاروں کے حق میں اخراجات ادا کرنے کی ذمہ داری این ایس ڈبلیو حکومت پر عائد ہوگی، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔
عدالتی فیصلہ سنائے جانے پر حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وکلا کا شکریہ ادا کیا۔
فلسطین ایکشن گروپ کے ترجمان جوش لیز نے کہا:
"یہ ہر اس شخص کے لیے بڑی جیت ہے جو احتجاج کے حق اور جمہوریت کی پروا کرتا ہے، اور یقیناً ایک آزاد فلسطین کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔"
گرینز کی رکن پارلیمنٹ سو ہیگنسن نے کہا کہ یہ فیصلہ مننز کی قیادت پر سوال اٹھاتا ہے اور فروری کے احتجاج میں پولیس کے سخت رویے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔







