نیو ساؤتھ ویلز حکومت کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی کے قوانین غیر آئینی قرار

 A pro-Palestinian protester clashed with police

A judge has ruled against NSW's strict protest laws introduced in the wake of the Bondi Beach massacre. Source: AAP / Flavio Brancaleone

نیو ساؤتھ ویلز کی اعلیٰ عدالت کے ایک جج نے ریاست میں احتجاج پر عائد پابندیوں سے متعلق قوانین کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔


چیف جسٹس اینڈریو بیل نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ قوانین آئین میں شامل حکومت اور سیاسی معاملات پر اظہارِ رائے کی آزادی پر "ناقابلِ قبول بوجھ" ہیں۔

اس فیصلے کے بعد فلسطین ایکشن گروپ اور بلیک کاکس سمیت درخواست گزاروں کے حق میں اخراجات ادا کرنے کی ذمہ داری این ایس ڈبلیو حکومت پر عائد ہوگی، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔

عدالتی فیصلہ سنائے جانے پر حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وکلا کا شکریہ ادا کیا۔

فلسطین ایکشن گروپ کے ترجمان جوش لیز نے کہا:

"یہ ہر اس شخص کے لیے بڑی جیت ہے جو احتجاج کے حق اور جمہوریت کی پروا کرتا ہے، اور یقیناً ایک آزاد فلسطین کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔"

گرینز کی رکن پارلیمنٹ سو ہیگنسن نے کہا کہ یہ فیصلہ مننز کی قیادت پر سوال اٹھاتا ہے اور فروری کے احتجاج میں پولیس کے سخت رویے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔

________________________________________

کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
ایپیل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:

نیو ساؤتھ ویلز کی عدالت نے بونڈائی حملے کے بعد احتجاج کو محدود کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اختیارات کو ختم کر دیا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منس کا کہنا ہے کہ احتجاجی قوانین کو غیر قانونی قرار دیے جانے پر نیو ساؤتھ ویلز حکومت مایوس ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کی ایک اعلی عدالت کے ایک جج نے ریاست میں احتجاج پر عائد پابندیوں سے متعلق

قوانین کو غلط قدم قرار دے دیا ہے۔ ایک جج نے بونڈائی بیچ قتل عام کے بعد متعارف کروائے گئے سخت احتجاجی قوانین کے خلاف فیصلہ سنایا۔ نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منس نے اس کے رد عمل میں کہا کہ ان کی حکومت اس فیصلے سے واضح طور پر مایوس ہے اور وہ اپنے جاری کردہ قوانین کی اب بھی حمایت کرتے ہیں۔ یہ

متنازع اقدامات دسمبر میں تیزی سے نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ سے منظور کروائے گئے تھے۔ پولیس کمشنر کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اعلان کریں کہ سڈنی کے اہم علاقوں میں دہشت گرد حملے کے بعد تین ماہ تک عوام کو جلسوں کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے نتیجے میں مظاہرین کو سڑکوں پر مارچ کرنے کی صورت میں ٹریفک یا پیدل چلنے والوں کی نقل و

حرکت میں رکاوٹ ڈالنے پر گرفتاری کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ کرس منس نے کہا کہ یہ قوانین اس وقت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھے مگر عدالت نے حکومتی بیان سے اختلاف کیا。 چیف جسٹس اینڈریو بیل نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ قوانین آئین میں شامل حکومت اور سیاسی

معاملات پر اظہار رائے کی آزادی پر ایک ناقابل قبول بوجھ ہیں۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس پابندی کو جس طرح نامزد کیا گیا وہ غیر معقول تھا اور صرف یہ کافی نہیں ہے کہ مقننہ نے کمیونٹی کے اتحاد و تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت محسوس کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آسٹریلیا کے

آئین کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ نظام ریاست کو اس طرح اپنے وسیع فیصلوں کے ذریعے بدلے اور بلا امتیاز پابندیاں عائد کرے جو عوامی اجتماعات کو اور اظہار رائے کے حق کو متاثر کریں। اس فیصلے کے بعد فلسطینی ایکشن گروپ اور بلیک کوک سمیت درخواست گزاروں کے حق میں اخراجات ادا کرنے کی ذمہ داری

نیو ساؤتھ ویلز حکومت پر عائد ہو گی جو ممکنہ طور پر لاکھوں ڈالر میں ہو گی۔ عدالتی فیصلہ سناتے پر حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وکلاء کا شکریہ ادا کیا। فلسطین ایکشن گروپ کے ترجمان جوش لیس نے کہا کہ یہ ہر اس شخص کی بڑی جیت ہے جو احتجاج کے حق اور جمہوریت کی پرواہ کرتا ہے اور یقینا ایک آزاد فلسطین کے لیے آواز

اٹھاتا ہے اور اگرچہ یہ پابندیاں ختم ہو چکی ہیں لیکن فروری تک ان میں نرمی نہیں کی گئی تھی جو اس وقت کے قریب تھا جب پولیس نے ٹاؤن ہال میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف احتجاج کو طاقت کے ذریعے منتشر کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران متعدد افراد پر کیپسیکم اسپرے کیا گیا اور دیگر کو مارا پیٹا گیا اور گرفتار

کیا گیا。 مسٹر منس نے اپنے رد عمل میں کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ جھڑپیں نہیں ہوئیں یا یہ مشکل نہیں تھا لیکن مجھے اس قانون سازی پر کوئی افسوس نہیں। گرینز کی رکن پارلیمان سو ہیگنسن نے کہا کہ یہ فیصلہ منس کی قیادت پر سوال اٹھاتا ہے اور فروری کے احتجاج میں پولیس کے سخت رویے کی ذمہ داری انہیں پر عائد ہوتی

ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمارے پریمیئر کرس منس عوام اور جمہوریت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ فلسطین ایکشن گروپ کے وکیل نک ہینا نے کہا کہ اگر حکومت اس طرح کے قوانین بناتی رہی تو انہیں عدالت میں چیلنج کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ غیر جمہوری قوانین بناتے رہیں گے تو ریاست کے لوگ انہیں مسلسل چیلنج

کرتے رہیں گے۔ ایس بی ایس نیوز کی اس فیچر کو اردو سامعین کے لیے ریحان علوی نے پیش کیا。

ایس بی ایس اردو ایس بی ایس ساؤتھ ایشین پر۔

END OF TRANSCRIPT

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now