پاکستان کی محبت سے سرشار کراچی کے نوجوان ابصاراحمد نے ساڑھے 4 ہزار سے زائد ملی نغمے اپنی ذاتی لائبریری میں محفوظ کر لیے ہیں۔ گھر میں ہی قائم ان کی لائبریری میں قومی زبان اردو، سندھی، بلوچی، گلگتی، بنگالی، فارسی، انگریزی، براہوی اور سرائیکی سمیت دیگر زبانوں میں ریکارڈ کیے گئے ملی نغمے موجود ہیں۔
ابتدائی دور کے گرامو فون کے ترانے ہوں یا پھر ریڈیو پر نشر اور ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے، آڈیو کیسٹس، سی ڈی، ڈی وی ڈیز، ٹی وی سمیت جہاں جہاں پاکستان کا نام سنایا اور دکھایا گیا، وطن کی محبت میں سرشار اس نوجوان ابصار احمد نے اُسے اپنے پاس جمع کر لیا ہے۔
پاکستان کے78ویں یوم آزادی کے موقع پرابصاراحمد نے ایس بی ایس اردو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اپنے شوق، ملی نغموں کے ریکارڈ، نایاب ترانوں کی کلیکشن میں مشکلات اور ملک سے محبت کے اس منفرد انداز کے راز کھولے ہیں۔
ابصار احمد نے بتایا کہ ان کی کلیکشن میں تحریک پاکستان کے زمانے کے ملی نغمے بھی موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ کئی فنکار حتیٰ کہ حکومتی عہدیدران کے پاس بھی جب کبھی سرکاری آرکائیو میں کوئی ملی نغمہ موجود نہ ہوتو وہ ان سے ہی رابطہ ہی کرتے ہیں۔
ابصار احمد کے مطابق یہ ریکارڈ محفوظ کرنا آسان نہیں تھا، اس میں ان کی کئی سالوں کی محنت پوشیدہ ہے، ابصار نے بتایا کہ انہوں نے بازار میں ملی نغموں کی جتنی بھی آڈیو کیسٹس اور سی ڈیز دستیاب تھیں خرید لی ہیں، جب انہیں گرامو فون کے بارے پتہ چلا تو انہوں نے گرامو فونز میں محفوظ پرانے ملی نغموں کو بھی جمع کرنے کیلئے دن رات ایک کیا۔
(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔)




