اگر آپ سڈنی، کینبرا یا پرتھ میں رہتے ہیں۔ تو شائید گاڑی کو سڑک یا کھلی جگہ پر پارک کرنا بہترین خیال نہ ہو۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 40 سالوں میں گرچہ ملک کے بیشتر حصوں میں اولے پڑنے والے دنوں کی تعداد میں کمی آئی ہے مگر آسٹریلیا کے کچھ گنجان آبادی والے علاقوں میں ژالہ باری میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اولےپڑنے کی آواز سن کر آپ پریشان ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ جان و مال دونوں کے لئے خطرہ ہیں۔ ۔۔ آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں سڈنی جیسے بڑے شہروں میں دوسرے علاقوں کی نسبت اولے پڑنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز اور بیورو آف میٹرولوجی کے سائنسدانوں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ کس طرح ژالہ باری کے رجحانات بدل رہے ہیں۔
کچھ زیادہ آبادی علاقوں میں، اپنی کار کو کورڈ کار پارک میں نہ کھڑی رکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے محقق ٹم روپاچ نے اس تحقیق کے سربراہ ہیں۔
اولے اس وقت بنتے ہیں جب بارش کے قطرے گرج چمک کے ساتھ ماحول کے انتہائی سرد علاقوں تک پہنچنے کے بعد جم جاتے ہیں۔جہاں یہ منجمد قطرے مائع پانی کے قطروں سے ٹکرا کر اور بڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ مائیع قطرات اولوں کی سطح پر جم جاتے ہیں۔ڈاکٹر روپاچ کا کہنا ہے کہ اولوں کی پیمائش اور ان کی ساخت یا ماڈلنگ کرنا مشکل کام ہے۔
آسٹریلیا کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں اولے پڑنے کے امکانات شمالی علاقوں سے ذیادہ ہیں۔اس طرح سڈنی کینبرا اور پرتھ میں ژالہ باری ذیادہ ہو سکتی ہے۔
بیورو آف میٹرولوجی کے ریڈار ریسرچ سائنسدان ڈاکٹر جوشوا سوڈرہوم [[سوڈا ہیم]] نے بتایا کہ بیورو کے طویل مدتی موسمی ریڈار آرکائیو یا پرانے ریکارڈ کو ریڈار مشاہدات کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔
موازنے میں ملک بھر کی 20 ریڈار سائٹس کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جس میں ہر سائٹ پر 12 سے 24 سال کے ریکارڈ موجود تھے۔

ڈاکٹر سوڈر ہولم کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیقی مواد آب و ہوا سے متعلق نہیں ہے مگر اس کے ذریعے مشرقی اور مغربی علاقں میں گرمیوں میں ذیادہ اولے بننے کے امکانات پر غور کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سوڈر ہولم کی تحقیق ژالہ باری کے تواتر سے ہونے کے امکانات کی طرف توجے دلاتا ہے اور یہ آسٹریلینز کو مستقبل میں ہونے والے ژالہ باری کے خلاف تیار رہنے میں مدد کرے گی۔
ڈاکٹر روپاچ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا یہ موسمیاتی حالات مستقبل میں بدلتے رہیں گے۔

انشورنس آسٹریلیا گروپ یا آئی اے جی کا کہنا ہے کہ آسٹریلیین باشندوں کو گھروں اور گاڑیوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
چونکہ اولے گھروں، عمارتوں اور کاروں کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں،
گھروں اور املاک کو اولے یا ژا لہ باری کے اثرات سے سے بچنے کے لیے آئی اے جی کے مارک لیپلسٹریئر کے پاس کچھ تجاویز ہیں تا کہ کس طرح بہتر طریقے سے تیار رہا جائے۔
آسٹریلین کو ژالہ باری کے موسم کا سامنا کرتے وقت، ماہرین اس طرح تیاری کرنے کا مشورہ دیتے ہیں:
- مقامی موسم پر نظر رکھنا
- گھروں اور خاص طور پر چھتوں اور کھڑکیوں کے چھجوں کی مضبوطی پر نظر رکھنا
- ڈرائیونگ کے دوران حفاظت کو ترجیح دینا
- گاڑی کو انڈر کور جگہ پارک کرنا
- انشورنس پر غور کرنا
____________
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
“SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
یا اینڈرائیڈ
ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:




