ویزا فیسوں میں حالیہ اضافے پر MARA ایجنٹ اور ویژن کنسلٹنٹس کے سی ای او عمران علی لاکھانی اور Edlink کے فہد جبار نے بتایا کہ 485 ورک ویزا کی فیس چھ ماہ میں 2300 سے 5750 ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور آسٹریلیا اب دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگا ہو چکا ہے۔ ایک متاثرہ ویزا درخواست گزار نے بتایا کہ راتوں رات ہونے والے اس اضافے نے ان کا مالی بجٹ متاثر کیا۔
اس پوڈکاسٹ میں SBS اردو نے آسٹریلیا میں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ویزا فیسوں کے حالیہ اضافے پر تین مختلف زاویوں سے گفتگو کی۔ عمران علی لاکھانی، جو Vision Consultancy کے نام سے اپنی کمپنی چلاتے ہیں اور تقریباً دو دہائیوں سے MARA ایجنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ 485 ورک ویزا کی فیس چھ ماہ کے اندر 2300 سے بڑھ کر 5750 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اور آسٹریلیا اب امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے مقابلے میں فیس کے اعتبار سے مسابقتی نہیں رہا۔
فہد جبار، جو Edlink کنسلٹنسی کے روحِ رواں ہیں، نے اس اضافے کو "غیر متوقع" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اسٹوڈنٹ ویزا فیس جو کبھی صرف 700 ڈالر تھی، اب 2500 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور ان کے پاس متاثرہ طلبہ کی کالز کا سلسلہ جاری ہے جو اپنی مالی مشکلات بیان کر رہے ہیں۔ گفتگو کو انسانی پہلو دینے کے لیے پروگرام میں ایک ویزا درخواست گزار بھی شامل ہوئے جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کے لیے TR ویزا لگانے کی تیاری میں تھے کہ اچانک فیس میں تقریباً گیارہ سو ڈالر کا اضافہ ہو گیا، جس سے ان کا مالی منصوبہ درہم برہم ہو گیا اور انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسی تبدیلیوں کی پیشگی اطلاع دی جائے۔





