وزیراعظم انتھونی البنیز نے اپنی اب تک کی سب سے سخت تقریروں میں کہا کہ غزہ میں قحط کی منظر کشی "دل توڑ دینے والی ہے"، خاص طور پر اتوار کو المطبق کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں "بلکل ناقابل قبول" اور "ناقابلِ دفاع ہیں۔

لیکن ایک برطانوی یہودی صحافی ڈیوڈ کولیئر جو فلسطینی دشمنی کے لئے جانے جاتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر "گمراہ کن" ہے، جس کے بعد نیویارک ٹائمز نے نئی معلومات سامنے آنے پر اپنی اشاعت میں اس پر وضاحت بھی جاری کی۔ مگر ڈیوڈ کولیئر کہتے ہیں کہ عالمی میڈیا نے المطبق کی یہ تصویر بغیر یہ تسلیم کیے شائع کی ہے کہ یہ 18 ماہ کا بچہ پہلے سے طبی مسائل کا شکار تھا۔
اوکسیفیم آسٹریلیا کی ہیومنٹیریئن سربراہ لوسیا گولڈسمتھ نے ایس بی ایس نیوز کو بتایا کہ پہلے سے طبی مسائل رکھنے والے بچے غذائی اجزاء ہضم کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ایسے کئی بچے ممکنہ طور پر قوت مدافعت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے خوراک کی کمی سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مزید جانئے

اسرائیل فلسطین تنازعہ: ایک مختصر تاریخ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے شدید غذائی کمی کے علاج کے رہنما خطوط تیار کرنے والے مارکو کیراک نے بھی کہا کہ قحط کی شدید صورتحال میں وہ لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں جنہیں پہلے سے بیماریاں لاحق ہوں۔






