اقوام متحدہ نے غزہ میں فلسطینیوں کو خوراک کے انتظام کے دوران ہونے والی اموات کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں کم از کم 575 لوگ خوراک لینے کے لیے لائن میں کھڑے ہونے کے دوران نشانہ بنے، جن میں سے 674 افراد ایسے مقامات پر ہلاک ہوئے جہاں امدادی ادارے (GHF) غذائی رقوم دے رہے تھے۔
یہ واقعات اس جدید امدادی انتظام کا حصہ ہیں، جس میں امریکی-اسرائیلی حمایت یافتہ GHF حصہ لے رہا ہے، مگر بین الاقوامی امدادی ادارے اس میں کردار ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔
انسانی حقوق کے ترجمان تھامین الخیتان نے بتایا کہ "حالیہ طور پر 410 سے زائد افراد" گولہ باری یا فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، جن میں امداد کے درخواست گزار بھی شامل تھے ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ امدادی رسائی کو محدود کرنا جنگی جرم مانا جائے گا۔
GHF نے یہ کہہ کر ذمہ داری ٹالی کہ "بعض افراد" نے "اشتہاری کارروائیاں" کیں، جبکہ مقامی وزارتِ صحت اور سول ڈیفنس نے فورسز پر ہی فائرنگ کا الزام عائد کیا۔





