آسٹریلیا میں مقیم کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں عوام سڑکوں پر ہیں کیونکہ انہیں بنیادی سہولیات، جیسے آٹا، بجلی اور دیگر ضروریات زندگی، تک رسائی حاصل نہیں۔ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری احتجاج دراصل ایک عوامی تحریک ہے جو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت عوامی مسائل کو طاقت کے زور سے دبانے کے بجائے سنجیدگی سے ان کے حل کی جانب قدم اٹھائے اور انٹرنیٹ سمیت اظہار رائے کی آزادی بحال کرے تاکہ دنیا اصل صورت حال سے باخبر رہ سکے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دھرنے، ہلاکتیں اور کمیونیکیشن بلیک آوٹ پر آسٹریلیا میں تشویش

Massive crowd gathers as Public Action Committee protest enters second day in Muzaffarabad, the capital of Pakistani-administered Kashmir, 30 September 2025. Azad Jammu and Kashmir observed a shut-down and wheel-jam strike led by the Joint Action Committee (JAC) over its 38-point charter of demands, including abolition of elite privileges and refugee seats. Source: EPA / AMIRUDDIN MUGHAL/EPA
آسٹریلیا میں مقیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں نے حقوق اور بنیادی سہولیات کے لیے ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، انٹرنیٹ بندش اور اظہارِ رائے پر پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں جاری بدامنی اور حکومتی رویہ عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل رہا ہے۔
___
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔
شئیر













