آسٹریلیا میں مقیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں نے حقوق اور بنیادی سہولیات کے لیے ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، انٹرنیٹ بندش اور اظہارِ رائے پر پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں جاری بدامنی اور حکومتی رویہ عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل رہا ہے۔
آسٹریلیا میں مقیم کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں عوام سڑکوں پر ہیں کیونکہ انہیں بنیادی سہولیات، جیسے آٹا، بجلی اور دیگر ضروریات زندگی، تک رسائی حاصل نہیں۔ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری احتجاج دراصل ایک عوامی تحریک ہے جو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت عوامی مسائل کو طاقت کے زور سے دبانے کے بجائے سنجیدگی سے ان کے حل کی جانب قدم اٹھائے اور انٹرنیٹ سمیت اظہار رائے کی آزادی بحال کرے تاکہ دنیا اصل صورت حال سے باخبر رہ سکے۔





